وفاقی شرعی عدالت کا بڑا فیصلہ: خواتین کو وراثت سےمحروم کرنا غیراسلامی قرا ماخذ ز پاکستان میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے ایک اہم فیصلہ سامنے آیا ہے۔ وفاقی شرعی عدالت نے خواتین کو وراثت سے محروم کرنے کے خلاف ایک تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے اس عمل کو غیراسلامی قرار دیا۔ اس فیصلے میں کہا گیا ہے کہ روایات اور رسم و رواج کی بنیاد پر خواتین کو وراثت سے محروم کرنا مکمل طور پر اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ خواتین کو وراثت سے محروم کرنا غیراسلامی عمل رپورٹ کے مطابق، شریعت کورٹ نے ان خواتین کو وراثت سے محروم کرنے والوں کے خلاف فوجداری کارروائی کی ہدایت کی ہے۔ عدالت کے مطابق اس عمل کی جڑیں قدیم زمانے کی جہالت سے جڑی ہوئی ہیں، جب اسلام سے قبل خواتین کو وراثت سے محروم رکھا جاتا تھا۔ تاہم، اسلام نے واضح طور پر یہ حق خواتین کو عطا کیا ہے، اور اسلام کی تعلیمات کے مطابق وراثت میں حصہ دینا ضروری ہے۔ چادر اور پرچی روایات: خواتین کے حقوق کی خلاف ورزی عدالت میں بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا کے بنوں علاقے میں "چادر اور پرچی" نامی روایات پر عمل کیا جاتا ہے، جس کے تحت خواتین کو وراثت سے محروم کر دیا جاتا ہ...