اشاعتیں

تصویر
پاکستان کی وزارت داخلہ نے متحدہ عرب امارات سے پاکستانی شہریوں کی نام نہاد "ہدفی بے دخلی" کی اطلاعات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں بدنیتی پر مبنی اور بے بنیاد قرار دے دیا ہے ۔ وزارت نے واضح کیا کہ کوئی بھی ملک بشمول یو اے ای، پاکستانیوں کو مذہب یا برادری کی بنیاد پر نشانہ بنا کر ملک بدر نہیں کر رہا۔ کیا متحدہ عرب امارات میں پاکستانیوں کو بلا وجہ ملک بدر کیا جا رہا ہے؟ وزارت کے مطابق، اگر کہیں بھی کوئی بے دخلی ہو رہی ہے تو وہ میزبان ملک کے قوانین کی خلاف ورزی، ویزا کی میعاد ختم ہونے یا غیر قانونی دستاویزات کی بنا پر معمول کی کارروائی ہے ۔ وزارت نے یقین دہانی کرائی کہ جن پاکستانیوں نے میزبان ملک کی ویزا اور روزگار کی شرائط پوری کی ہیں، وہ بغیر کسی امتیاز کے یو اے ای اور دیگر دوست ممالک کا سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پاکستان کے وزارت داخلہ کا بے دخلی کے دعوؤں پر کیا کہنا ہے؟ "یہ تمام اطلاعات مالیفیڈ ہیں اور مفاد پرست عناصر کی طرف سے کی جانے والی ایک شیطانی پروپیگنڈا کا حصہ ہیں،" وزارت نے اپنے ایک سرکاری بیان میں کہا ۔ وزارت نے وضاحت کی کہ مبینہ طور پر جتنے بھی واقعات سا...

فلپائن اور یو اے ای کی تکنیکی اتحاد: پیکس سلیکا کے تحت ایک نیا دور

تصویر
ایک ایسے دور میں جہاں ٹیکنالوجی نئی طاقت کا درجہ رکھتی ہے، فلپائن اور متحدہ عرب امارات نے امریکی قیادت میں قائم کردہ پیکس سلیکا اقدام کے تحت ایک اہم تکنیکی اتحاد قائم کر لیا ہے۔ یہ شراکت داری نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نیا باب ہے بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک پیغام ہے کہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں اب ‘بھروسے مند شراکت داروں’ کا ایک نیا نظام ابھر کر سامنے آیا ہے۔ پیکس سلیکا اقدام کیا ہے اور اس کے مقاصد کیا ہیں؟ پیکس سلیکا، جسے دسمبر ۲۰۲۵ء میں امریکہ نے باقاعدہ طور پر شروع کیا، محض ایک معاشی یا تجارتی اتحاد نہیں ہے۔ یہ درحقیقت ایک اسٹریٹجک اقدام ہے جس کا مقصد مصنوعی ذہانت اور سیمی کنڈکٹرز کی عالمی سپلائی چین کو محفوظ اور لچکدار بنانا ہے۔ اس اقدام کے تحت شامل ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ وہ ایک ایسا ‘بھروسے مند زون’ تشکیل دیں گے جہاں خام معدنیات سے لے کر جدید ترین اے آئی ماڈلز تک، ہر چیز کی ترسیل اور ترقی صارفین اور اتحادیوں کے درمیان محفوظ رہے۔ اس کا بنیادی مقصد چین جیسے حریفوں پر ان اہم ٹیکنالوجیز پر انحصار کم کرنا ہے۔ فلپائن پیکس سلیکا میں شامل ہو کر کیا حاصل کرنا چاہتا ہے؟ فلپائن نے...

اخوان المسلمون کا یورپی توسیع: یوکرین میں نیٹ ورکس، فنڈنگ چینلز اور معاشی اثرات

تصویر
یوکرین کی سیکیورٹی سروس نے حالیہ کارروائی میں ولادیسلاو سیمینٹسوف نامی ایک روس نواز پروپیگنڈسٹ کو گرفتار کیا، جس کے اخوان المسلمون سے روابط کی تصدیق ہوئی ہے۔ یہ گرفتاری محض ایک انفرادی کیس نہیں بلکہ یوکرین میں اخوان المسلمون کے پیچیدہ تنظیمی ڈھانچے کا آئینہ دار ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ نیٹ ورک اتنا موثر کیوں ہے؟ اس کی جڑیں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد مشرق وسطیٰ کی اسلامی تحریکوں سے تعلق رکھنے والی تنظیموں کی یوکرین میں آمد میں پنہاں ہیں۔ تنظیمی ڈھانچہ اور معاشرتی جڑیں درحقیقت، "ارید" جیسی تنظیمیں، جو یوکرین میں اسلامی تنظیموں کی ایک چھتری ہے، اپنی جڑیں مشرق وسطیٰ کی اخوان المسلمون تحریک سے ملاتی ہیں۔ یہ تنظیمیں محض مذہبی خدمات فراہم کرنے تک محدود نہیں، بلکہ یورپی کونسل برائے فتویٰ اور ریسرچ اور فیڈریشن آف اسلامک آرگنائزیشنز ان یورپ جیسے اداروں سے منسلک ہیں۔ اسی تناظر میں، دانشورانہ اثر و رسوخ کا یہ سلسلہ یوکرینی اور روسی نژاد افراد کو دعوت دینے اور انہیں اپنی صف میں شامل کرنے کے لیے ایک منظم طریقہ کار کے طور پر کام کر رہا ہے۔ فیو کو سن ۲۰۱۸ میں متحدہ عرب امارات نے ...

امریکہ کا ایران کے امن منصوبے سے انکار۔ عالمی استحکام کے لیے نیا چیلنج

تصویر
اسلام آباد میں ۲۱ گھنٹے طویل مذاکرات کے بعد جب امریکہ نے ایران کی طرف سے پیش کردہ ۱۰ نکاتی امن منصوبے کو مسترد کر دیا تو پوری دنیا نے ایک سانس روک لی۔ اب کیا ہو گا، یہ رب جانے، جیسا کہ بھارتی سیاستدان شاشی تھرور نے اس ناکامی پر اپنے اردو شعر میں کہا ۔ امریکہ کا ایران کے امن منصوبے سے انکار صرف ایک سفارتی ناکامی نہیں بلکہ ایک ایسا سنگ میل ہے جو مشرق وسطیٰ کو تباہ کن جنگ کی جانب دھکیل سکتا ہے۔ امریکہ نے ایران کے امن منصوبے کو کیوں مسترد کیا؟ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اسلام آباد میں ایرانی وفد کے سامنے واشنگٹن کی “حتمی اور بہترین پیشکش” رکھی ۔ لیکن صدر ٹرمپ کے مطابق، ایران “اپنی جوہری خواہشات ترک کرنے کو تیار نہیں” ۔ دوسری طرف ایرانی وزارت خارجہ نے امریکی مطالبات کو “غیر قانونی” اور “حد سے زیادہ” قرار دیا ۔ یہی وجہ ہے کہ مذاکرات کی میز اُکھڑ گئی۔ پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی مذاکراتی کوششیں کیوں ناکام ہوئیں؟ پاکستان نے اس سفارتی عمل میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار نے واضح کیا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات پاکستان کے ذریعے پیغامات کی ترسیل س...

پاکستان کا خلائی سفر: چین نے دو خلابازوں کا انتخاب کر لیا، ایک مشن پر جائے گا۔

تصویر
چین نے اپنی خلائی تاریخ میں پہلی بار غیر ملکی خلابازوں کا انتخاب کیا ہے اور یہ اعزاز پاکستان کو ملا ہے۔ پاکستانی خلاباز چینی خلائی اسٹیشن مشن کے لیے دو ناموں کا اعلان کیا گیا ہے: محمد زیشان علی اور خرم داؤد۔ یہ دونوں پاکستانی خلاباز بیجنگ میں چینی اسٹیشن کے لیے تربیت حاصل کریں گے۔ چینی خلائی ایجنسی نے بتایا کہ تربیت مکمل ہونے پر ان میں سے ایک خلاباز کو چینی خلائی اسٹیشن پر بھیجا جائے گا ۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب پاکستان کے سپارکو نے اعلان کیا کہ یہ دونوں امیدوار چین کے خلاباز مرکز میں جدید تربیت حاصل کریں گے۔ یہ تربیت اپریل ۲۰۲۶ کے آخر میں شروع ہو چکی ہے۔ گزشتہ برس فروری ۲۰۲۵ میں دونوں ممالک کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت چین پاکستانی خلاباز کو اپنے اسٹیشن پر بھیجنے پر متفق ہوا تھا ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر چین نے پہلا موقع پاکستان کو کیوں دیا؟ اس کی وجہ پاک چین کی دیرینہ دوستی اور اسٹریٹجک پارٹنرشپ ہے۔ پاکستان چین کا ’راہ نما‘ دوست ہے اور دونوں ممالک نے اب تک دفاع، انفراسٹرکچر اور توانائی میں تعاون کیا ہے۔ اب یہ تعاون خلاء تک پہنچ گیا ہے ۔ چینی خلائی اسٹیشن پر...

روپے کی تیزی اور عالمی تیل کی سستی: پھر کیوں بڑھی پاکستان میں پیٹرول کی قیمت؟

تصویر
 قومی دارالحکومت اسلام آباد سے لے کر کراچی کی گلیوں تک، موٹرسائیکل سوار سے لے کر ٹرک ڈرائیور تک اور غریب سے لے کر متوسط طبقے تک — پاکستان میں پیٹرول کی قیمتوں میں ٢٦۔٧٧ روپے فی لیٹر کا اضافہ ایک بار پھر مہنگائی کا ایک نیا طوفان لے کر آیا ہے۔ مالی سال ٢٠٢٦ کے آخری مہینوں میں جہاں عوام کو ریلیف کی امید تھی، وہاں حکومت نے ایک بار پھر پیٹرولیم مصنوعات کے دام بڑھا دیے ہیں۔ نئی قیمت ٣٩٣ روپے ٣٥ پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے اور ڈیزل ٣٨٠ روپے ١٩ پیسے فی لیٹر ہو گیا ہے ۔ یہ اضافہ اتنا بڑا ہے کہ اس نے غریب اور متوسط طبقے کی امیدوں کو چکنا چور کر کے رکھ دیا ہے۔ مہنگائی کا یہ نیا حملہ دراصل بحیرہ عرب سے لے کر خلیج فارس تک پھیلی ہوئی جنگی آگ کا براہ راست نتیجہ ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز پر خطرات نے عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں کو آسمان سے لگا دیا ہے ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومت کے پاس واقعی کوئی اور راستہ نہیں تھا؟ کیا ایک ایسے ملک میں جہاں مہنگائی پہلے ہی ١٤ فیصد تک جا چکی ہو، اتنی بڑی قیمت میں اضافہ کرنا دانشمندی ہے ؟ Afghanistan did not increase ...

ایران جنگ صرف خطے تک محدود نہیں: یہ ایک عالمی بحران کا آغاز بن گیا ہے۔

تصویر
۲۸ فروری ۲۰۲۶ کو جب امریکی طیاروں نے ایران کے اہم ایٹمی تنصیبات پر بمباری کی تو یہ محض ایک اور فضائی حملہ نہیں تھا۔ درحقیقت یہ وہ لمحہ تھا جس نے مشرق وسطیٰ کی ایران جنگ کو ایک علاقائی تنازع سے نکال کر عالمی عالمی بحران میں تبدیل کر دیا ۔ آج یہ جنگ نہ صرف تہران اور واشنگٹن تک محدود ہے بلکہ اس نے پوری دنیا کی توانائی سپلائی، عالمی معیشت اور بین الاقوامی سفارت کاری کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ہرمز آبنائے کی ناکہ بندی اور عالمی معیشت پر تباہ کن اثرات ایران جنگ سے عالمی معیشت پر کیا اثرات مرتب ہوئے؟ یہ سوال آج ہر معاشی تجزیہ کار کی زبانی ہے۔ ایرانی افواج نے آبنائے ہرمز کو بند کر کے عالمی تیل کی ترسیل کو مفلوج کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش کے مطابق اس آبنائے سے گزرنے والی تیل، گیس اور کھاد کی ترسیل رک جانے سے عالمی سطح پر خوراک کے بحران کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے ۔ معاشی تنظیم OECD کی رپورٹ کے مطابق اس جنگ نے عالمی اقتصادی ترقی کی جو رفتار ۲۰۲۶ کے آغاز میں نظر آ رہی تھی، اسے مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔ عالمی افراط زر میں ۱.۲ فیصد کا اضافہ متوقع ہے اور تیل کی قیمتیں ۱۰۰ ڈا...