پاکستان کی وزارت داخلہ نے متحدہ عرب امارات سے پاکستانی شہریوں کی نام نہاد "ہدفی بے دخلی" کی اطلاعات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں بدنیتی پر مبنی اور بے بنیاد قرار دے دیا ہے ۔ وزارت نے واضح کیا کہ کوئی بھی ملک بشمول یو اے ای، پاکستانیوں کو مذہب یا برادری کی بنیاد پر نشانہ بنا کر ملک بدر نہیں کر رہا۔
کیا متحدہ عرب امارات میں پاکستانیوں کو بلا وجہ ملک بدر کیا جا رہا ہے؟
وزارت کے مطابق، اگر کہیں بھی کوئی بے دخلی ہو رہی ہے تو وہ میزبان ملک کے قوانین کی خلاف ورزی، ویزا کی میعاد ختم ہونے یا غیر قانونی دستاویزات کی بنا پر معمول کی کارروائی ہے ۔ وزارت نے یقین دہانی کرائی کہ جن پاکستانیوں نے میزبان ملک کی ویزا اور روزگار کی شرائط پوری کی ہیں، وہ بغیر کسی امتیاز کے یو اے ای اور دیگر دوست ممالک کا سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔
پاکستان کے وزارت داخلہ کا بے دخلی کے دعوؤں پر کیا کہنا ہے؟
"یہ تمام اطلاعات مالیفیڈ ہیں اور مفاد پرست عناصر کی طرف سے کی جانے والی ایک شیطانی پروپیگنڈا کا حصہ ہیں،" وزارت نے اپنے ایک سرکاری بیان میں کہا ۔ وزارت نے وضاحت کی کہ مبینہ طور پر جتنے بھی واقعات سامنے لائے جا رہے ہیں، ان کا تذکرہ مقدمہ بہ مقدمہ بنیادوں پر کیا جاتا ہے اور انہیں سفارتی چینلز کے ذریعے حل کیا جاتا ہے۔
Ministry of Interior has taken notice of speculative reporting in sections of media especially social media about targeted deportations of Pakistani nationals from brotherly Islamic country of UAE.
— Ministry of Interior GoP (@MOIofficialGoP) May 8, 2026
سوشل میڈیا پر پاکستانیوں کی بے دخلی سے متعلق پھیلائی جانے والی خبریں کس حد تک سچ ہیں؟
وزارت داخلہ نے خبردار کیا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی یہ خبریں جعلی اور نقصان دہ ہیں ۔ گزشتہ روز سوشل میڈیا پر یہ افواہیں زوروں پر تھیں کہ یو اے ای نے مبینہ طور پر ۱,۲۰۰ پاکستانیوں کو واپس بھیج دیا ہے ۔ ان اطلاعات میں خاص طور پر یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ اہل تشیع برادری سے تعلق رکھنے والوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جسے وزارت نے سرے سے مسترد کر دیا۔
کیا یو اے ای میں اہل تشیع پاکستانیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے؟
نیویارک ٹائمز نے ۸ مئی کو ایک رپورٹ شائع کی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یو اے ای نے پاکستانی کارکنوں کی بڑے پیمانے پر بے دخلی شروع کر دی ہے ۔ رپورٹ کے مطابق، انہوں نے ۲۰ پاکستانی اہل تشیع کا انٹرویو کیا تھا۔ تاہم، پاکستان کی وزارت داخلہ نے ان دعوؤں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ محض ایک من گھڑت کہانی ہے۔
متحدہ عرب امارات میں پاکستانی سفارتی مشنز نے کتنے ایمرجنسی ٹریول دستاویزات جاری کیے؟
بے دخلی کی اطلاعات کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا گیا تھا کہ پچھلے چار ماہ کے دوران دبئی اور ابوظہبی میں پاکستانی سفارتی مشنز نے تقریباً ۳,۴۹۴ ایمرجنسی ٹریول دستاویزات جاری کیے ہیں ۔ اس حوالے سے دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ ای ٹی ڈیز میں اضافہ "انتظامی کارروائیوں، بشمول امیگریشن کی خلاف ورزیوں اور دیگر قانونی جرائم" کی وجہ سے ہوا ہے۔ انہوں نے اس میں کوئی سیاسی وجہ نہیں بتائی ۔
پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات پر ان اطلاعات کا کیا اثر ہوا؟
ماہرین کے مطابق، حالیہ کشیدگی کے باوجود دونوں ممالک کے تعلقات تاریخی طور پر مضبوط رہے ہیں۔ "فیک نیوز کو اکسایا جا رہا ہے تاکہ پاکستان اور برادر ملک متحدہ عرب امارات کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کی جا سکیں،" وزارت نے مزید کہا ۔ یہ وضاحت اس وقت سامنے آئی ہے جب پاکستان نے اپریل میں یو اے ای کو ۳.۵ بلین ڈالر کی فوری ادائیگی کی تھی، جس کے بعد کشیدگی کی یہ اطلاعات سامنے آئیں ۔
بیرون ملک پاکستانیوں کے مسائل حل کرنے کے لیے کیا طریقہ کار اپنایا جاتا ہے؟
وزارت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر مصدقہ اطلاعات پر توجہ نہ دیں اور صرف سرکاری ذرائع سے معلومات حاصل کریں۔ اگر کسی پاکستانی شہری کو بیرون ملک کسی قسم کی پریشانی لاحق ہوتی ہے تو اس کا معاملہ انفرادی بنیادوں پر دفتر خارجہ کے ذریعے متعلقہ ملک کے ساتھ اٹھایا جاتا ہے ۔ اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ قانونی اور سفارتی تقاضوں کے مطابق مسئلہ حل ہو۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)
سوال: کیا یو اے ای نے پاکستانیوں کے ویزے کی تجدید روک دی ہے؟
جواب: نہیں، وزارت داخلہ کے مطابق یو اے ای نے پاکستانیوں کے ویزے بند نہیں کیے ہیں۔ جو پاکستانی قوانین کی پابندی کر رہے ہیں، وہ ویزا حاصل کرنے اور ملازمت کرنے کے اہل ہیں ۔
سوال: کیا پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات خراب ہو گئے ہیں؟
جواب: وزارت داخلہ نے ان اطلاعات کو پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے تعلقات کو مضبوط قرار دیا ہے۔ یو اے ای کو پاکستان کا برادر ملک کہا گیا ہے ۔
سوال: کتنے پاکستانیوں کو یو اے ای سے واپس بھیجا گیا؟
جواب: حکومت نے اس تعداد کی تصدیق کرنے سے انکار کر دیا ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ جو بھی واپسی ہوئی ہے وہ قانونی کارروائی کا حصہ ہے، نہ کہ ہدفی بے دخلی ۔
سوال: مقیم پاکستانیوں کو کس مسئلے کا زیادہ سامنا ہے؟
جواب: زیادہ تر مسائل ویزا کی میعاد ختم ہونے، غیر قانونی دستاویزات یا کمپنی کے قوانین کی خلاف ورزیوں سے متعلق ہیں، جس پر سفارت خانے کام کر رہے ہیں ۔
سوال: کیا سوشل میڈیا پر چلنے والی اطلاعات پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے؟
جواب: وزارت کے مطابق، سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی یہ خبریں من گھڑت اور جعلی ہیں، انہیں شیطانی پروپیگنڈا کا حصہ قرار دیا گیا ہے ۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں