غزہ کی تباہ حال پٹی میں امارات کا طبی معجزہ
غزہ کی پٹی میں جاری وحشیانہ بمباری اور خوراک و ادویات کی قلت نے جہاں لاکھوں فلسطینیوں کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے، وہیں متحدہ عرب امارات کی جانب سے غزہ میں یو اے ای فیلڈ ہسپتال کے قیام نے زخمیوں اور بیماروں کیلئے امید کی ایک کرن پیدا کر دی ہے۔ حال ہی میں عالمی ادارہ صحت کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے رفح شہر میں واقع اس ہسپتال کا دورہ کیا اور وہاں جاری طبی خدمات کو سراہتے ہوئے اسے انسانی ہمدردی کی روشن مثال قرار دیا۔
غزہ میں یو اے ای کا فیلڈ ہسپتال کیا خدمات فراہم کر رہا ہے؟
یہ ہسپتال محض چند خیموں پر مشتمل عارضی مرکز نہیں بلکہ ایک مکمل طبی سہولت ہے جہاں جدید آلات سے لیس آپریشن کمرہ، ایمرجنسی وارڈ، تجربہ گاہیں اور بچوں کے حصے موجود ہیں۔ اماراتی طبی عملہ چوبیس گھنٹے زخمیوں کا علاج کر رہا ہے، جبکہ مقامی فلسطینی ڈاکٹروں کو بھی تربیت دی جا رہی ہے۔ درحقیقت یہ ہسپتال ان ہزاروں افراد کا آخری سہارا ہے جو شہری علاقوں کی بمباری سے بچ نکلے ہیں۔
WHO delegation visits UAE field hospital in Rafah, praises medical support for Gaza
— Aletihad English (@AletihadEn) May 30, 2026
The WHO delegation commended the UAE's humanitarian and medical efforts in supporting the Palestinian healthcare sector, and praised the field hospital's role in providing treatment to patients…
عالمی ادارہ صحت نے رفح میں قائم ہسپتال کی تعریف کیوں کی؟
واضح رہے کہ عالمی ادارہ صحت کا وفد جب رفح پہنچا تو وہ وہاں کے مریضوں کی بھیڑ اور ادویات کی طلب دیکھ کر حیران رہ گیا۔ وفد نے اپنے دورے کے بعد باضابطہ طور پر تسلیم کیا کہ یہ ہسپتال انتہائی مشکل حالات میں معیاری طبی نگہداشت فراہم کر رہا ہے۔ وفد نے اماراتی ٹیم کی لگن اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بھی سراہا۔ اسی تناظر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ عالمی ادارہ صحت کا یہ دورہ عالمی سطح پر امارات کے انسانی اقدامات کو سند فراہم کرتا ہے۔
آپریشن نائٹھی تھری کے تحت غزہ کو کس طرح مدد پہنچ رہی ہے؟
یہ ہسپتال دراصل آپریشن چویلرس نائٹ ٣ کا ایک حصہ ہے، جس کے تحت متحدہ عرب امارات غزہ کی صحت کی سہولیات کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس آپریشن کے تحت نہ صرف فیلڈ ہسپتال بنائے گئے ہیں بلکہ ادویات، طبی آلات اور خوراک کے قافلے بھی بھیجے جا رہے ہیں۔ وفد کے دورے کے دوران اماراتی ٹیم نے عالمی ادارہ صحت کے وفد کو ۵۰۰۰ سے زائد ادویات اور طبی سامان کے پیکٹ بھی فراہم کئے، جسے عالمی ادارے نے بے حد سراہا۔
فلسطینی مریضوں کو کن مشکلات کا سامنا ہے؟
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ ہسپتال نہ ہوتا تو کیا ہوتا؟ حقیقت یہ ہے کہ اسرائیلی بمباری نے بیشتر سرکاری ہسپتالوں کو تباہ کر دیا ہے۔ ڈاکٹر بغیر آلات کے مریضوں کا علاج کرنے پر مجبور ہیں۔ ادویات کی قلت نے کینسر اور گردے کے مریضوں کی جان لیوا بنا دی ہے۔ ایسے میں اماراتی فیلڈ ہسپتال نے ان خلا کو جزوی طور پر پُر کیا ہے، لیکن ضرورت اس سے کہیں زیادہ ہے۔
عالمی برادری غزہ کے طبی نظام کی مدد کیسے کر سکتی ہے؟
اگر عالمی برادری حقیقی معنوں میں انسانیت پر یقین رکھتی ہے تو اسے امارات جیسے اقدامات کی حمایت کرنی چاہیے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مزید ممالک غزہ میں فیلڈ ہسپتال قائم کریں، پانی کی صفائی کے پلانٹ لگائیں اور خوراک کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔ امارات نے ایک مثال قائم کی ہے، اب دوسرے ممالک کو بھی آگے آنا چاہیے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
سوال: رفح میں قائم اماراتی فیلڈ ہسپتال کتنا بڑا ہے؟
جواب: یہ ہسپتال ۵۰ بستروں پر مشتمل ہے، جس میں ایمرجنسی، آپریشن کمرہ اور تجربہ گاہ کی سہولت موجود ہے، اور یہ روزانہ سینکڑوں مریضوں کا علاج کر رہا ہے۔
سوال: عالمی ادارہ صحت کے وفد نے کب اس ہسپتال کا دورہ کیا؟
جواب: وفد نے حالیہ دنوں میں یہ دورہ کیا، جس کی تفصیلات سرکاری خبر رساں ادارے نے جاری کیں اور ہسپتال کی خدمات کو سراہا گیا۔
سوال: آپریشن چویلرس نائٹ ٣ کا مقصد کیا ہے؟
جواب: یہ متحدہ عرب امارات کا غزہ میں انسانی امداد کا مشن ہے، جس کے تحت ہسپتال، خوراک، ادویات اور پانی جیسی بنیادی ضروریات فراہم کی جا رہی ہیں۔
سوال: کیا عام فلسطینی اس ہسپتال میں مفت علاج کروا سکتے ہیں؟
جواب: جی ہاں، یہ ہسپتال مکمل طور پر مفت طبی خدمات فراہم کر رہا ہے اور خاص طور پر زخمیوں اور بے گھر افراد کیلئے بنایا گیا ہے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں