اشاعتیں

جنوری, 2025 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

وزیراعظم شہباز شریف سے چینی سفیر کی ملاقات:

تصویر
وزیراعظم شہباز شریف سے چینی سفیر کی ملاقات: اقتصادی اور سکیورٹی تعاون پر تبادلہ خیال پاکستان اور چین کے مابین دوطرفہ اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے لیے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے چینی سفیر جیانگ زیڈونگ سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات وزیراعظم ہاؤس میں ہوئی، جہاں دونوں رہنماؤں نے دوستی کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور مختلف شعبوں میں تعاون کو بڑھانے پر بات کی۔ چینی سال نو کی مبارکباد ملاقات کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے چینی سفیر کو چینی سال نو کی مبارکباد دی۔ وزیراعظم نے چین کی قیادت اور چینی عوام کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا، خاص طور پر پاکستان میں مقیم چینی شہریوں کے لیے۔ اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ "چینی سال نو کے آغاز کے ساتھ پاکستان اور چین کے درمیان دوستی کے رشتہ میں مزید مضبوطی آئے گی اور دونوں ممالک کے عوام کے لیے خوشحالی کا باعث بنے گا۔" پاکستان اور چین کے مابین اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات چینی سفیر جیانگ زیڈونگ نے وزیراعظم شہباز شریف کی نیک تمناؤں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے چین کے حکومت اور عوام کی جانب سے پاکستان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کی...

وفاقی حکومت کا جسٹس منصور علی شاہ کے فل کورٹ تشکیل کا آرڈر چیلنج کرنے کا فیصل

تصویر
وفاقی حکومت کا جسٹس منصور علی شاہ کے فل کورٹ تشکیل کا آرڈر چیلنج کرنے کا فیصلہ تازہ ترین خبریں : وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس منصور علی شاہ کے فل کورٹ تشکیل دینے کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے میں جسٹس منصور علی شاہ نے از خود نوٹس کا اختیار استعمال کیا تھا، جس پر حکومت نے تحفظات ظاہر کیے ہیں اور اسے غیر آئینی قرار دے کر عدالت سے اس فیصلے کی نظرثانی کی درخواست کی ہے۔ حکومت کی جانب سے چیلنج کیا جانے والا فیصلہ سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں کسٹم ریگولیٹر ڈیوٹی کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل منصور اعوان نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے جسٹس منصور علی شاہ کے 13 اور 16 جنوری کے فیصلوں پر نظرثانی اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ جسٹس منصور علی شاہ نے از خود نوٹس کا اختیار استعمال کیا، جو کہ آئین کے مطابق نہیں تھا۔ وفاقی حکومت اس فیصلے کو چیلنج کرے گی کیونکہ ان کے مطابق یہ فیصلہ غیر آئینی ہے۔ کسٹم ڈیوٹی کیس اور اس کے اثرات کسٹم ریگولیٹر ڈیوٹی کیس کی سماعت کے دوران جسٹس منصور علی شاہ نے کیس کو اپنے بینچ میں لگانے کا حکم دیا تھا۔ سماعت کے دوران عدا...

ملین پاؤنڈ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کی اپیل اسلام آباد ہائیکورٹ میں

تصویر
  190 ملین پاؤنڈ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کی اپیل اسلام آباد ہائیکورٹ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے 190 ملین پاؤنڈز کے ریفرنس میں سزا کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل دائر کر دی ہے۔ یہ کیس بہت زیادہ توجہ حاصل کر رہا ہے کیونکہ اس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے پی ٹی آئی کے دور حکومت میں غیر قانونی طریقے سے ایک بڑی رقم کی وصولی کی۔ اس اپیل کے بعد ایک اور مرحلہ شروع ہو گیا ہے، جس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی اپنے موقف کی وضاحت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کیس کی تفصیلات یہ کیس "القادر ٹرسٹ" سے متعلق ہے اور الزام لگایا گیا ہے کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (NCA) کے ذریعے حکومت پاکستان کو بھیجے گئے 50 ارب روپے کو قانونی حیثیت دینے کے بدلے میں بحریہ ٹاؤن لمیٹڈ سے اربوں روپے اور سینکڑوں کنال اراضی حاصل کی۔ اس معاملے میں، ملک ریاض اور ان کی فیملی پر بھی منی لانڈرنگ کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ یہ 190 ملین پاؤنڈز کا کیس ایک سنگین نوعیت کا ہے جس ...

سپریم کورٹ میں ایڈیشنل رجسٹرار کے خلاف توہین عدالت کیس

تصویر
  Title: سپریم کورٹ میں ایڈیشنل رجسٹرار کے خلاف توہین عدالت کیس: جسٹس منصور علی شاہ کا اہم اعتراض Introduction سپریم کورٹ میں ایڈیشنل رجسٹرار کے خلاف توہین عدالت کیس نے ایک نیا موڑ لیا ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے انٹرا کورٹ اپیل کے بینچ پر اپنے اعتراضات اٹھا دیے ہیں، جس سے کیس میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ جسٹس منصور علی شاہ نے ججز کمیٹی کو خط لکھا ہے جس میں انہوں نے جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس محمد علی مظہر کی بینچ میں شمولیت پر اعتراض کیا۔ اس مضمون میں ہم اس معاملے کی تفصیلات پر روشنی ڈالیں گے اور اس کے قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیں گے۔ جسٹس منصور علی شاہ کا اعتراض جسٹس منصور علی شاہ نے 23 جنوری کو ہونے والے جوڈیشل کمیشن اجلاس کے بعد چیف جسٹس کو ایک خط لکھا۔ اس خط میں انہوں نے انٹرا کورٹ اپیل کے لیے بینچ تشکیل دینے کے حوالے سے اپنی تشویش ظاہر کی۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اجلاس کے بعد چیف جسٹس نے غیر رسمی طور پر ایک اجلاس بلایا، جس میں تجویز دی گئی کہ پانچ رکنی بینچ تشکیل دیا جائے۔ انہوں نے خاص طور پر اس بات پر اعتراض کیا کہ کمیٹی کے اراکین کو بینچ میں شامل نہ کیا جائ...

بھارتی خواتین کی کرکٹ ٹیم نے 10 وکٹ سے شاندار فتح حاصل کی:

تصویر
  بھارتی خواتین کی کرکٹ ٹیم نے 10 وکٹ سے شاندار فتح حاصل کی: ملائیشیا کے خلاف 32 رنز پر آل آؤٹ بھارتی خواتین کی کرکٹ ٹیم نے ٹی ٹوینٹی انڈر 19 ورلڈ کپ میں شاندار پرفارمنس کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملائیشیا کی خواتین کرکٹ ٹیم کو 10 وکٹ سے شکست دے دی۔ اس میچ میں بھارتی بالرز کی تباہ کن کارکردگی نے ملائیشیا کو صرف 32 رنز پر آل آؤٹ کر دیا، جبکہ بھارتی بیٹرز نے ہدف صرف 2 اوورز اور 5 گیندوں میں حاصل کر کے ایک غیر معمولی کامیابی حاصل کی۔ بھارتی خواتین کرکٹ ٹیم کی شاندار بالنگ پرفارمنس ملائیشیا کی ٹیم نے پہلے بیٹنگ کی اور بھارتی بالرز نے انہیں کسی بھی موقع پر سکور بنانے کا موقع نہ دیا۔ بھارتی بالر ویشنوی شہر ما نے شاندار بالنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 5 وکٹ حاصل کیے، جب کہ آیوشی شکلا نے 3 وکٹیں حاصل کر کے ملائیشیا کی ٹیم کو 32 رنز پر محدود کر دیا۔ بھارتی بالرز کی اس شاندار کارکردگی کے باعث ملائیشیا کی ٹیم محض 32 رنز پر آؤٹ ہو گئی۔ بھارتی بیٹرز نے ہدف کیسے پورا کیا؟ بھارتی خواتین کرکٹ ٹیم نے 32 رنز کا ہدف صرف 2.5 اوورز میں حاصل کر کے اپنے حریف کو 10 وکٹ سے شکست دے دی۔ بھارتی بیٹر جی ترشا کی ناٹ آؤ...

یں آئینی ترمپاکستان میں 26ویم کیخلاف درخواستوں پر آٹھ رکنی آئینی بنچ تشکیل:

تصویر
  یں آئینی ترمپاکستان میں 26ویم کیخلاف درخواستوں پر آٹھ رکنی آئینی بنچ تشکیل: اہم تفصیلات اور آئینی حیثیت پاکستان کی سپریم کورٹ نے حال ہی میں 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں کی سماعت کے لیے آٹھ رکنی آئینی بنچ تشکیل دے دیا ہے۔ اس بنچ کی سربراہی معروف جسٹس امین الدین خان کریں گے، اور ان کے ساتھ جج صاحبان میں جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم اختر افغان، اور جسٹس شاہد بلال شامل ہیں۔ اس آرٹیکل میں ہم 26ویں آئینی ترمیم، سپریم کورٹ کے آئینی بنچ کی تشکیل، اور اس سے جڑے قانونی پہلوؤں پر تفصیل سے گفتگو کریں گے۔ 26ویں آئینی ترمیم: ایک جائزہ 26ویں آئینی ترمیم پاکستان میں ایک اہم آئینی تبدیلی ہے جس کا مقصد کچھ مخصوص قانونی نکات میں اصلاحات متعارف کروانا تھا۔ یہ ترمیم مختلف عوامی و قانونی معاملات میں تبدیلیوں کے لیے کی گئی تھی، لیکن اس پر مختلف حلقوں کی جانب سے تحفظات اور مخالفت کا سامنا بھی رہا ہے۔ پاکستان کی آئین میں ترمیم ایک پیچیدہ عمل ہے جس میں پارلیمنٹ کی منظوری کے بعد صدر پاکستان کی اجازت ضروری ہوتی ہے۔ آئین میں...

تفصیلی فیصلہ: عمران خان اور بشریٰ بی بی نے پراپرٹی ٹائیکون سے غیر قانونی مالی فوائد حاصل کئے

تصویر
 تفصیلی فیصلہ: عمران خان اور بشریٰ بی بی نے پراپرٹی ٹائیکون سے غیر قانونی مالی فوائد حاصل کئے پاکستان کی احتساب عدالت نے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف ایک اہم فیصلہ جاری کیا ہے۔ اس فیصلے میں یہ ثابت ہوا کہ عمران خان نے پراپرٹی ٹائیکون سے غیر قانونی مالی فوائد حاصل کیے، جنہیں انہوں نے 2018 سے 2022 تک حاصل کیا۔ یہ فیصلہ 190 ملین پاؤنڈ کے ایک ریفرنس کے حوالے سے دیا گیا ہے، جس میں بانی پی ٹی آئی کے خلاف مختلف الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اس فیصلے کا اثر نہ صرف سیاسی سطح پر محسوس ہو گا بلکہ اس سے ملک کی احتسابی نظام پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ غیر قانونی مالی فوائد کا حصول فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عمران خان نے 458 کنال اراضی ایک ایسے ٹرسٹ کے ذریعے حاصل کی، جس کا قانونی وجود نہیں تھا۔ یہ اراضی زلفی بخاری کے ذریعے حاصل کی گئی، اور اس میں القادر یونیورسٹی کا بھی ذکر کیا گیا، جس کا اس وقت کوئی وجود نہیں تھا۔ عمران خان کے خلاف یہ الزامات ثابت ہوئے کہ انہوں نے پراپرٹی ٹائیکون سے مالی فوائد حاصل کرنے کے لیے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔ 171 ملین پاؤنڈ کی ...

ریاست ناقابل شکست ہوتی ہے

تصویر
  پاکستان تحریک انصاف نے اسلام آباد میں احتجاج کی ‘فائنل کال’ کا اعلان کیا۔ ہزاروں کی تعداد میں خیبرپختونخوا سے پی ٹی آئی کے کارکنان نے قافلوں کی صورت میں شہر اقتدار کا رخ کیا۔ تمام تر رکاوٹوں اور شدید شیلنگ کا سامنا کرتے ہوئے محبت عمران میں کارکنان نے پورے دو دن لگا کر اسلام آباد پہنچے۔ وفاقی وزراء متعدد بار پی ٹی آئی کی قیادت کو ڈی چوک نہ آنے کی تلقین کرتے رہے۔ یہاں تک کہ ایک دن میں دو مرتبہ چیرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور پیغام رسانی کیلے اڈیالہ جیل کے دروازے بھی کھلوائے گئے۔ اسٹیبلشمنٹ کے قریب ترین سمجھے جانے والی متعدد شخصیات بار بار میڈیا کے توسط سے پی ٹی آئی کو سخت ایکشن بارے خبردار کرتی رہیں۔ لیکن انقلاب کا بھوت سر پر سوار کر کے پی ٹی آئی نے ریاست کو ٹکر دینے کا ارادہ کر لیا تھا۔ لیکن پی ٹی آئی شاید یہ بات بھول گئی تھی کہ نہ تو یہ 2014 ہے، اور نہ ہی ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے پر ریٹائرڈ جنرل ظہیر الاسلام۔یاد رہے یہ وہی ڈی چوک ہے جہاں 126 دن تک یہی تحریک انصاف، کنٹینر، بڑے بڑے سپیکرز سمیت سردی اور گرمی میں بیٹھی رہی اور کبھی کسی قسم کی مزاحمت کا س...

سال 2024: معلومات تک رسائی کے قوانین پر عملدرآمد میں ناکامی

تصویر
    564 سال 2024 کے اختتام اور سال 2025 کے آغاز پر جہاں ہم دیگر شعبوں میں سود و زیاں کا حساب کر رہے ہیں وہیں معلومات تک رسائی کے قوانین پر عملدرآمد کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے کیونکہ پاکستان میں معلومات تک رسائی کے قوانین کو نافذ ہوئے ایک دہائی سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔ اس کے باوجود ان قوانین کے نفاذ کے حقیقی مقاصد کا حصول تو دور کی بات ہے ان قوانین پر عملدرآمد بھی درست طور پر شروع نہیں ہو سکا ہے، اس وجہ سے جہاں سرکاری امور کی انجام دہی میں بیوروکریسی کا رویہ کسی بھی قسم کے احتساب سے بالاتر ہو چکا ہے وہیں سول سوسائٹی کی طرف سے سرکاری امور کی انجام دہی میں بیوروکریسی سے جوابدہی اور شفافیت یقینی بنانے کی کوششیں بھی غیر موثر ہوتی جا رہی ہیں۔ پنجاب ٹرانسپیرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013ء کے تحت متعلقہ محکمے کو سیکشن 10 (7) کے تحت 14 دن میں مطلوبہ معلومات کی فراہمی کا پابند بنایا گیا ہے، معلومات کی عدم فراہمی یا نامکمل معلومات کی فراہمی پر شہری صوبائی انفارمیشن کمیشن میں اپیل دائر کر سکتا ہے جس پر کمیشن کو سیکشن 6 (2) کے تحت 30 سے 60 دن کے اندر فیصلہ یا جرمانہ کرنا ہوتا ہے۔ ...

گفتگو رفاقت حیات کے رولاک پر

تصویر
  اس تمہید کے ساتھ اب ہم رفاقت حیات کے رولاک کی بات کریں‌ گے۔ رفاقت حیات کا شمار موجودہ نسل کے اہم فکشن نگاروں میں ہوتا ہے۔ ان کے افسانوں کا ایک مجموعہ “خواہ مخواہ زندگی” اور ناول “میر واہ کی راتیں” اس سے پہلے شایع ہوچکا ہے۔ رفاقت حیات کی ان تصانیف کو ناقدین نے سراہا اور قارئین نے پسند بھی کیا۔ رفاقت صاحب ایک عرصے سے ڈراما نگاری کے میدان میں سرگرم ہیں، جو ان کی شناخت کا اہم حوالہ ہے۔ رولاک رفاقت کا ایک ضخیم ناول ہے، جو سندھ کے قصباتی ماحول، اس ماحول میں ایک ظالم باپ کے زیرِ سایہ جوان ہونے والے ایک کردار اور باپ بیٹے کے پُرپیچ رشتے کو ایک مضبوط پلاٹ کے ساتھ منظر کرتا ہے۔ اس ناول پر تبصرے اور کہانی و اسلوب پر اظہارِ خیال کا سلسلہ جاری ہے۔ سترہویں عالمی اردو کانفرنس میں بھی ایک سیشن میں رولاک پر بات ہوئی، جس میں معروف فکشن نگار، صحافی اور انٹرویو کار، اقبال خورشید نے بھی ناول پر اپنا تجزیہ پیش کیا۔ اقبال خورشید نے سوال اٹھایا کہ اس وقت جو رولاک ہمارے سامنے ہے، کیا اسے پڑھ کر ہم سہولت سے کہہ سکتے ہیں کہ یہ رفاقت حیات کا بہترین کام ہے؟ میرے نزدیک یہ ناانصافی ہوگی۔ ہمیں اصولی طور پر یہ ک...

جنوبی کوریا کا مارشل لاء اور ہمارا وطن

تصویر
  جنوبی کوریا میں صدر نے گذشتہ دنوں مارشل لاء کا نفاذ کیا مگر پھر اپوزیشن پارلیمنٹ میں متحرک ہوئی اور مشترکہ قرار داد منظور کرکے صدریون سیک یول کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا جس کے نتیجے میں صرف 6 گھنٹے بعد ہی مارشل لاء ختم کردیا گیا۔ یہ شاید جدید دور کی تاریخ کا مختصر ترین مارشل لاء ہے۔ تاہم یہ سلسلہ صرف یہیں ختم نہیں ہوا بلکہ اپوزیشن نے صدر یون سیک یول کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ بھی کرلیا۔ یہ مثال صرف ترقی یافتہ ممالک میں ہی دیکھی جاسکتی ہے۔ پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان جیسے ترقی پذیر ملکوں میں ایسے پارلیمانی احتساب کا تصور کرنا بھی محال ہے۔ جنوبی کوریا جس کی معشیت مضبوط ہے، اس کی کل جی ڈی پی کا 50 فیصد برآمدات پر انحصار کرتا ہے جس کی مالیت 644 بلین امریکی ڈالر ہے لیکن اقتصادی طور پر مستحکم معشیت کے ہوتے ہوئے بھی جنوبی کوریا کو مارشل لاء کا سامنا کرنا پڑا اور وہ ارسطو جو آج کل دعوے کرتے نہیں تھکتے کہ اقتصادی طور پر مضبوط ملک اندرونی طور پر کبھی سیاسی عدم استحکام کا شکار نہیں ہوتے، جنوبی کوریا کے حالیہ مارشل لاء نے ان کے مفروضوں کو غلط ثابت کردیا ہے۔ جنوبی کو...

سماجی مسئلہ: خواتین کی تعلیم میں رکاوٹیں

تصویر
       پاکستان میں خواتین کی تعلیم کا مسئلہ ایک سنگین سماجی چیلنج ہے، جو معاشرتی ترقی کو بری طرح متاثر کر رہا ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں خواتین آبادی کا تقریباً نصف ہیں، ان کی تعلیم سے محرومی ترقی کے راستے میں بڑی رکاوٹ ہے۔ تعلیمی مسائل کی وجوہات غربت: بہت سے خاندان اپنی مالی مشکلات کے باعث لڑکیوں کی تعلیم پر خرچ کرنے کے بجائے ان کو گھر کے کام کاج یا کم عمری میں شادی کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ثقافتی رکاوٹیں: دیہی علاقوں میں تعلیم کو غیر ضروری سمجھا جاتا ہے، اور اکثر والدین کا خیال ہے کہ لڑکیاں صرف گھر کے کام کے لیے ہیں۔ تعلیمی سہولیات کی کمی: دیہی علاقوں میں لڑکیوں کے لیے اسکولز کی تعداد کم ہے، اور جہاں اسکولز موجود ہیں، وہاں سہولیات کی کمی یا خواتین اساتذہ کی غیر موجودگی ایک مسئلہ ہے۔ اثرات خواتین کی تعلیم کی کمی معاشرتی اور معاشی ترقی کو متاثر کرتی ہے۔ تعلیم یافتہ خواتین بہتر فیصلے کر سکتی ہیں، اپنے بچوں کی پرورش میں بہتر کردار ادا کرتی ہیں، اور معیشت میں اپنا حصہ ڈال سکتی ہیں۔ حل اور تجاویز تعلیمی اداروں کا قیام: دیہی علاقوں میں مزید اسکولز قائم کیے جائیں، خاص طور پر...

پاکستان میں عدالتی نظام کی اصلاح کی ضرورت

تصویر
                                                                                             پاکستان میں عدالتی نظام کی موجودہ حالت ایک ایسا مسئلہ ہے جو نہ صرف عوامی اعتماد کو کمزور کر رہا ہے بلکہ ملک کے قانونی نظام پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کر رہا ہے۔ مقدمات کا سالوں تک التوا کا شکار رہنا، انصاف کے حصول میں تاخیر، اور عدالتی افسران کے رویے جیسے مسائل عام شہری کے لیے ایک اذیت بن چکے ہیں۔ اہم چیلنجز مقدمات کی بھرمار: ملک میں لاکھوں مقدمات زیر التوا ہیں، جن میں کچھ مقدمات دہائیوں سے فیصلے کے منتظر ہیں۔ اس کی بڑی وجہ عدالتی وسائل کی کمی ہے، جیسا کہ ججز کی تعداد اور عدالتوں کی ناکافی سہولیات۔ کرپشن: عدالتی نظام میں کرپشن بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ رشوت اور ذاتی تعلقات کی بنیاد پر فیصلے انصاف کے نظام کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ عام عوام کی مشکلات: دیہی علاقوں کے لوگوں کے ...