سپریم کورٹ میں ایڈیشنل رجسٹرار کے خلاف توہین عدالت کیس
Title: سپریم کورٹ میں ایڈیشنل رجسٹرار کے خلاف توہین عدالت کیس: جسٹس منصور علی شاہ کا اہم اعتراض
Introduction
سپریم کورٹ میں ایڈیشنل رجسٹرار کے خلاف توہین عدالت کیس نے ایک نیا موڑ لیا ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے انٹرا کورٹ اپیل کے بینچ پر اپنے اعتراضات اٹھا دیے ہیں، جس سے کیس میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ جسٹس منصور علی شاہ نے ججز کمیٹی کو خط لکھا ہے جس میں انہوں نے جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس محمد علی مظہر کی بینچ میں شمولیت پر اعتراض کیا۔ اس مضمون میں ہم اس معاملے کی تفصیلات پر روشنی ڈالیں گے اور اس کے قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیں گے۔
جسٹس منصور علی شاہ کا اعتراض
جسٹس منصور علی شاہ نے 23 جنوری کو ہونے والے جوڈیشل کمیشن اجلاس کے بعد چیف جسٹس کو ایک خط لکھا۔ اس خط میں انہوں نے انٹرا کورٹ اپیل کے لیے بینچ تشکیل دینے کے حوالے سے اپنی تشویش ظاہر کی۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اجلاس کے بعد چیف جسٹس نے غیر رسمی طور پر ایک اجلاس بلایا، جس میں تجویز دی گئی کہ پانچ رکنی بینچ تشکیل دیا جائے۔ انہوں نے خاص طور پر اس بات پر اعتراض کیا کہ کمیٹی کے اراکین کو بینچ میں شامل نہ کیا جائے۔
کمیٹی میں شامل ججز کے حوالے سے اعتراضات
جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے خط میں اس بات پر زور دیا کہ کمیٹی کے اراکین اپنے کیے گئے فیصلوں پر خود جج نہیں بن سکتے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کمیٹیوں میں شامل ججز کے فیصلوں پر سوالات ہیں اور ان ججز کو انٹرا کورٹ اپیل کے بینچ کا حصہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔ جسٹس منصور علی شاہ کے مطابق، یہ اقدام ان کے انصاف کے عمل پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔
بینچ کی تشکیل پر اعتراض
جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے خط میں ذکر کیا کہ 24 جنوری کو رات 9 بج کر 33 منٹ پر ان کے سیکرٹری نے ان سے چھ رکنی بینچ کی منظوری کے حوالے سے سوال کیا۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ انہوں نے اعتراض کیا اور صبح تک جواب دینے کا وعدہ کیا۔ تاہم، رات 10 بج کر 28 منٹ پر انہیں اطلاع دی گئی کہ چھ رکنی بینچ تشکیل دے دیا گیا ہے اور روسٹر بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ میں ججز کی سنیارٹی کا معاملہ
یہ معاملہ سپریم کورٹ کے اندر ججز کی سنیارٹی کے اصولوں کے حوالے سے بھی اہم ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے اپنی درخواست میں کہا کہ سنیارٹی کے لحاظ سے بینچ تشکیل دیا جانا چاہیے، اور یہ تجویز کی تھی کہ بینچ میں ان ججز کو شامل نہ کیا جائے جو کمیٹی کے رکن ہیں۔ اس اعتراض کے بعد، سپریم کورٹ کے اس معاملے میں مزید قانونی پیچیدگیاں پیدا ہونے کا امکان ہے۔
نتیجہ
جسٹس منصور علی شاہ کا یہ اعتراض سپریم کورٹ کی کارروائی میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کے اعتراضات کو ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے گا، اور اس کے بعد اس معاملے پر مزید قانونی بحث کا آغاز ہو سکتا ہے۔ سپریم کورٹ میں ججز کی سنیارٹی اور کمیٹی کے اراکین کے فیصلوں پر اٹھائے گئے سوالات اہم ہیں، اور ان کا فیصلہ عدالت کے مستقبل کے فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں