آبنائے ہرمزاور نہر سوئز میں ٹول کا قانونی فرق: مصر کیوں جائز، ایران کیوں ناجائز؟


دنیا کی دو اہم ترین آبی گزرگاہوں — آبنائے ہرمز اور نہر سوئز — کو لے کر آج کل ایک دلچسپ قانونی بحث چھڑ گئی ہے۔ ایران نے حال ہی میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے ٹول لینے کا اعلان کیا ہے، جسے بین الاقوامی برادری نے غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔ دوسری طرف مصر کئی دہائیوں سے نہر سوئز سے گزرنے والے جہازوں سے ٹول وصول کر رہا ہے اور اسے عالمی سطح پر جائز بھی سمجھا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر یہ فرق کیوں ہے؟ اس کی بنیادی وجہ ان دونوں آبی گزرگاہوں کی نوعیت میں پوشیدہ ہے۔ نہر سوئز ایک مصنوعی آبی راستہ ہے جسے انسانوں نے بنایا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز ایک قدرتی آبی گزرگاہ ہے۔


اقوام متحدہ کا سمندری قانون آبنائے ہرمز سے گزرنے کے بارے میں کیا کہتا ہے؟

اقوام متحدہ کے سمندری قانون کے کنونشن کے تحت، آبنائے ہرمز جیسی قدرتی آبی گزرگاہوں کو "بین الاقوامی آبنائے" کا درجہ حاصل ہے۔ ان سے گزرنے والے بحری جہازوں کو "ٹرانزٹ پاسج" کا حق حاصل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بغیر کسی رکاوٹ، اجازت نامے یا فیس کے ان راستوں سے گزر سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کا سمندری قانون کے آرٹیکل ۳۷ سے ۴۴ واضح طور پر کہتے ہیں کہ آبنائے سے متصل ممالک نہ تو اس گزرگاہ کو روک سکتے ہیں اور نہ ہی اس پر کوئی ٹول عائد کر سکتے ہیں۔ حالانکہ ایران نے اس کنونشن کی توثیق نہیں کی، لیکن ماہرین کے مطابق "ٹرانزٹ پاسج" کا نظام بین الاقوامی روایتی قانون کا حصہ ہے جس پر عمل درآمد لازمی ہے۔


ایران آبنائے ہرمز میں ٹول لینے کا مطالبہ کیوں کر رہا ہے؟

ایران کا کہنا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو تحفظ فراہم کر رہا ہے اور اس کے لیے اسے فیس لینے کا حق ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ نے ایک بل منظور کیا ہے جسے "آبنائے ہرمز مینجمنٹ پلان" کا نام دیا گیا ہے۔ اس کے تحت ایرانی سرزمین سے گزرنے والے جہازوں کو انقلابی گارڈ کا معائنہ کرنا ہو گا اور ایک مقررہ فیس ادا کرنی ہو گی۔ ایران کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ صرف "غیر مخالف" ممالک کے جہازوں کو گزرنے کی اجازت دے گا اور امریکہ اور اسرائیل کے جہازوں پر مکمل پابندی عائد کر دے گا۔ ایران کا یہ مؤقف ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو اپنی علاقائی پانیوں کا حصہ سمجھتا ہے اور یہاں "انوسنٹ پاسج" (بے گناہ گزرنے) کا اصول لاگو ہوتا ہے، لیکن یہ تشریح عالمی سطح پر مسترد کر دی گئی ہے۔

مصر کو نہر سوئز میں ٹول لینے کی قانونی اجازت کیسے حاصل ہے؟

نہر سوئز کی کہانی بالکل مختلف ہے۔ یہ ۱۹۳ کلومیٹر لمبی نہر انسانوں نے ۱۸۶۹ میں مکمل کی تھی۔ چونکہ یہ ایک مصنوعی راستہ ہے، اس لیے اس پر مصر کی خودمختاری مکمل ہے۔ مصر اس نہر کی دیکھ بھال، گہرائی میں اضافے اور جدید کاری پر اربوں ڈالر خرچ کرتا ہے۔ ۱۸۸۸ کے قسطنطنیہ کنونشن کے تحت بھی مصر کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ نہر سے گزرنے والے جہازوں سے ٹول لے، بشرطیکہ وہ امتیازی سلوک نہ کرے۔ پانامہ نہر بھی اسی زمرے میں آتی ہے۔ یہ ٹولز دراصل "خدمات" کے عوض لیے جاتے ہیں، نہ کہ محض گزرنے کی اجازت دینے کے۔


اگر ایران آبنائے ہرمز بند کر دے تو عالمی معیشت پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

آبنائے ہرمز دنیا کی پانچویں سب سے اہم آبی گزرگاہ ہے جس سے روزانہ تقریباً ۱۴۰ جہاز گزرتے ہیں۔ یہ عالمی تیل کی سپلائی کا پانچواں حصہ (۲۰ فیصد) لے کر جاتا ہے۔ اگر ایران نے یہاں مستقل ٹول نافذ کر دیا یا اسے بلاک کر دیا، تو تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو لیں گی۔ ایک اندازے کے مطابق اگر ایران فی جہاز ۲۰ لاکھ ڈالر وصول کرتا ہے تو اس کی سالانہ آمدنی ۱۰۰ ارب ڈالر سے تجاوز کر جائے گی۔ لیکن اس کے نتیجے میں عالمی منڈیوں میں شدید عدم استحکام پیدا ہو گا، انشورنس پریمیم بڑھ جائیں گے اور متبادل تجارتی راستے تلاش کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔


کیا خلیجی ممالک ایران کے ٹول منصوبے کی مخالفت کر رہے ہیں؟

خلیجی ممالک نے اس منصوبے کی شدید مخالفت کی ہے۔ خلیج تعاون کونسل (GCC) کے سیکرٹری جنرل نے اسے "جارحانہ اقدام" قرار دیا ہے جو اقوام متحدہ کا سمندری قانون کی خلاف ورزی ہے۔ قطر اور سعودی عرب نے بھی واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو کسی ایک ملک کی مرضی پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ ان ممالک کو خدشہ ہے کہ اگر ایران کا یہ منصوبہ کامیاب ہو گیا تو مستقبل میں یہ خطرناک مثال قائم ہو جائے گی۔


اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)

س: کیا ایران اقوام متحدہ کا سمندری قانون کے تحت آبنائے ہرمز میں ٹول لے سکتا ہے؟

ج: نہیں، اقوام متحدہ کا سمندری قانون کے تحت بین الاقوامی آبنائے میں ٹرانزٹ پاسج کے حق کی وجہ سے ٹول لینا ممنوع ہے۔ ایران نے اس کی توثیق نہیں کی، لیکن یہ اصول روایتی قانون کا حصہ ہے۔

س: کیا نہر سوئز میں ٹول لینا جائز ہے؟

ج: جی ہاں، نہر سوئز ایک مصنوعی راستہ ہے جس کی دیکھ بھال مصر کرتا ہے۔ اسے بین الاقوامی قوانین اور کنونشنز کے تحت ٹول لینے کی اجازت ہے۔

س: آبنائے ہرمز میں فی الحال کیا صورتحال ہے؟

ج: اس وقت ایران نے حقیقتاً آبنائے ہرمز کو کنٹرول کر رکھا ہے اور صرف ان جہازوں کو گزرنے دے رہا ہے جو اس کی شرائط مان لیں۔

س: امریکہ ایران کے اس اقدام پر کیا کہہ رہا ہے؟

ج: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے واضح کیا ہے کہ امریکہ ایران کو آبنائے ہرمز کو مستقل کنٹرول کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

ایرانی برادری: متحدہ عرب امارات کی ترقی کی ایک کڑی

ایران جنگ صرف خطے تک محدود نہیں: یہ ایک عالمی بحران کا آغاز بن گیا ہے۔