ایران جنگ صرف خطے تک محدود نہیں: یہ ایک عالمی بحران کا آغاز بن گیا ہے۔
۲۸ فروری ۲۰۲۶ کو جب امریکی طیاروں نے ایران کے اہم ایٹمی تنصیبات پر بمباری کی تو یہ محض ایک اور فضائی حملہ نہیں تھا۔ درحقیقت یہ وہ لمحہ تھا جس نے مشرق وسطیٰ کی ایران جنگ کو ایک علاقائی تنازع سے نکال کر عالمی عالمی بحران میں تبدیل کر دیا ۔ آج یہ جنگ نہ صرف تہران اور واشنگٹن تک محدود ہے بلکہ اس نے پوری دنیا کی توانائی سپلائی، عالمی معیشت اور بین الاقوامی سفارت کاری کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔
ہرمز آبنائے کی ناکہ بندی اور عالمی معیشت پر تباہ کن اثرات
ایران جنگ سے عالمی معیشت پر کیا اثرات مرتب ہوئے؟ یہ سوال آج ہر معاشی تجزیہ کار کی زبانی ہے۔ ایرانی افواج نے آبنائے ہرمز کو بند کر کے عالمی تیل کی ترسیل کو مفلوج کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش کے مطابق اس آبنائے سے گزرنے والی تیل، گیس اور کھاد کی ترسیل رک جانے سے عالمی سطح پر خوراک کے بحران کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے ۔
معاشی تنظیم OECD کی رپورٹ کے مطابق اس جنگ نے عالمی اقتصادی ترقی کی جو رفتار ۲۰۲۶ کے آغاز میں نظر آ رہی تھی، اسے مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔ عالمی افراط زر میں ۱.۲ فیصد کا اضافہ متوقع ہے اور تیل کی قیمتیں ۱۰۰ ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین اس جنگ کو اب محض فوجی تنازع نہیں بلکہ ایک معاشی تباہی قرار دے رہے ہیں۔
کون کس کے ساتھ؟ عالمی طاقتوں کی صف بندی
آرمڈ فورسز میں کون کس کے ساتھ ہے؟ اس جنگ نے دنیا بھر میں نئے اتحاد جنم لئے ہیں۔ جہاں ایک طرف امریکہ اور اسرائیل براہ راست ایران پر حملہ آور ہیں، وہیں چین، ترکی اور مصر نے فعال سفارتی کردار ادا کرتے ہوئے جنگ بندی کی کوششیں تیز کر دی ہیں ۔
پاکستان کا کردار اس تناظر میں انتہائی اہم ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح طور پر پاکستانی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کیا ہے کہ انہوں نے اس مشکل گھڑی میں ایران کے ساتھ کھڑے ہو کر یکجہتی کا مظاہرہ کیا ۔ پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان پشت پردہ مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کیا ہے۔
عالمی سفارت کاری کی ناکامی اور اقوام متحدہ کی تشویش
آئندہ مسئلہ حل کیسے ہوگا؟ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ یہ جنگ "قابو سے باہر" ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا ایک وسیع تر جنگ کی طرف دھکیلی جا رہی ہے اور انسانی المیہ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے ۔
گوتیرش کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل کو فوری طور پر جنگ بندی کرنی چاہیے کیونکہ عام شہریوں کی ہلاکتیں اور عالمی معاشی تباہی انتہائی تشویشناک حد تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غزہ کا ماڈل لبنان میں دہرایا جا رہا ہے جو خطے کے استحکام کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے ۔
تیسری جنگ عظیم کا خطرہ: کتنا حقیقی؟
آئندہ اگلی جنگ عظیم کا خطرہ کتنا ہے؟ دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس وقت مشرق وسطیٰ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ تیسری جنگ عظیم کی پیش خیمہ ہے۔ ایران کی حکمت عملی یہ ہے کہ وہ اس جنگ کو اتنا زیادہ پھیلائے کہ امریکہ کے لیے اسے جاری رکھنا سیاسی طور پر ناممکن ہو جائے ۔
ایران نے اپنے پراکسی گروپوں کے ذریعے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک میں ڈیٹا سینٹرز اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے ۔ اس کے علاوہ حوثی باغیوں کے ذریعے بحیرہ احمر میں عالمی تجارت کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔
امریکہ ایران مذاکرات: کیا کوئی امید باقی ہے؟
امریکہ اور ایران میں مذاکرات کی موجودہ صورتحال کیا ہے؟ ٹرمپ انتظامیہ کے ایران کے خلاف سخت موقف کے باوجود پشت پردہ مذاکرات جاری ہیں۔ پاکستان نے اس سلسلے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ تاہم ایران نے امریکی شرائط کو مسترد کرتے ہوئے اپنی پانچ نکاتی شرائط پیش کر دی ہیں ۔
ایران کا موقف ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر ختم نہیں کرے گا بلکہ پرامن مقاصد کے لیے اسے جاری رکھے گا۔ امریکہ تاہم ایران کے جوہری پروگرام کے مکمل خاتمے پر اصرار کر رہا ہے۔ یہی بنیادی اختلاف مذاکرات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔
پاکستان کا کردار: توازن کی دشوار گزار سیاست
آئندہ پاکستان کا کردار کیا ہے؟ پاکستان اس جنگ میں انتہائی نازک اور متوازن کردار ادا کر رہا ہے۔ ایک طرف ایران کے ساتھ ۹۰۰ کلومیٹر طویل سرحد ہے اور وہاں کی شیعہ آبادی کے جذبات ہیں تو دوسری طرف سعودی عرب اور امریکہ کے ساتھ اس کے اسٹریٹجک تعلقات ہیں ۔
نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے واضح کیا ہے کہ پاکستان ایران کے ساتھ کھڑا ہے لیکن وہ خود کو علاقائی جنگ میں براہ راست شامل نہیں ہونے دے گا۔ یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا وہی پرانا فارمولا ہے جس نے اسے اب تک خطے میں ایک اہم ثالث کے طور پر قائم رکھا ہے۔
Pakistan welcomes and fully supports ongoing efforts to pursue dialogue to end the WAR in Middle East, in the interest of peace and stability in region and beyond. Subject to concurrence by the US and Iran, Pakistan stands ready and honoured to be the host to facilitate…
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) March 24, 2026
جنگ کے بجائے سفارت کاری کا راستہ
آئندہ تیل کی قیمتوں پر کیا اثر پڑے گا؟ جب تک یہ جنگ جاری رہے گی، تیل کی قیمتیں آسمان کو چھوتی رہیں گی اور عالمی معیشت کو نقصان پہنچتا رہے گا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا عالمی برادری اس جنگ کو روکنے کے لیے موثر اقدامات کرے گی یا پھر ہم ایک بار پھر تاریخ کو دہراتے ہوئے دیکھیں گے؟
یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ سمیت تمام بین الاقوامی ادارے فوری جنگ بندی پر زور دے رہے ہیں۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے مہینوں میں دنیا کو نہ صرف توانائی کے بحران کا سامنا کرنا پڑے گا بلکہ خوراک کی قلت، مہنگائی اور ممکنہ طور پر ایک بڑی عالمی جنگ کا خطرہ بھی لاحق ہو جائے گا۔ وقت بہت کم ہے اور فیصلہ کرنے کی گھڑی آ گئی ہے۔
FAQs
سوال: ایران جنگ کی اصل وجہ کیا ہے؟
امریکہ اور اسرائیل کا الزام ہے کہ ایران خفیہ طور پر ایٹمی ہتھیار تیار کر رہا ہے۔ ۲۸ فروری ۲۰۲۶ کو امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے ایٹمی تنصیبات پر بمباری کی جس کے بعد ایران نے خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں پر میزائل حملے کیے اور ہرمز آبنائے بند کر دی۔
سوال: ایران جنگ سے پاکستان کو کیا خطرات لاحق ہیں؟
پاکستان کی ایران سے ۹۰۰ کلومیٹر طویل سرحد ہے۔ جنگ بڑھنے کی صورت میں سرحدی علاقوں میں عدم استحکام، پناہ گزینوں کا بحران اور مذہبی فرقہ واریت کے بڑھنے کا خطرہ ہے۔ پاکستان نے ثالث کا کردار ادا کیا ہے لیکن براہ راست جنگ میں شامل ہونے سے گریز کیا ہے۔
سوال: عالمی معیشت پر اس جنگ کے کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں؟
او ای سی ڈی کے مطابق عالمی شرح نمو ۲.۹ فیصد تک گر گئی ہے۔ افراط زر میں ۱.۲ فیصد اضافہ ہوا ہے اور تیل کی قیمتیں ۱۰۰ ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں۔ ہرمز آبنائے میں رکاوٹ کی وجہ سے خوراک اور کھاد کی ترسیل بھی متاثر ہوئی ہے۔
سوال: کیا تیسری جنگ عظیم کا خطرہ حقیقی ہے؟
دفاعی ماہرین کے مطابق اس جنگ میں شامل ممالک کی تعداد اور ان کے ہتھیاروں کی نوعیت دیکھتے ہوئے یہ خطرہ بہت حقیقی ہے۔ ایران کی حکمت عملی جنگ کو پھیلانے کی ہے جبکہ امریکہ اور اسرائیل ایران کے خلاف پوری طاقت لگا چکے ہیں۔ اقوام متحدہ نے بھی صورتحال کو "قابو سے باہر" قرار دیا ہے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں