ریاست ناقابل شکست ہوتی ہے
پاکستان تحریک انصاف نے اسلام آباد میں احتجاج کی ‘فائنل کال’ کا اعلان کیا۔ ہزاروں کی تعداد میں خیبرپختونخوا سے پی ٹی آئی کے کارکنان نے قافلوں کی صورت میں شہر اقتدار کا رخ کیا۔ تمام تر رکاوٹوں اور شدید شیلنگ کا سامنا کرتے ہوئے محبت عمران میں کارکنان نے پورے دو دن لگا کر اسلام آباد پہنچے۔ وفاقی وزراء متعدد بار پی ٹی آئی کی قیادت کو ڈی چوک نہ آنے کی تلقین کرتے رہے۔ یہاں تک کہ ایک دن میں دو مرتبہ چیرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور پیغام رسانی کیلے اڈیالہ جیل کے دروازے بھی کھلوائے گئے۔
اسٹیبلشمنٹ کے قریب ترین سمجھے جانے والی متعدد شخصیات بار بار میڈیا کے توسط سے پی ٹی آئی کو سخت ایکشن بارے خبردار کرتی رہیں۔ لیکن انقلاب کا بھوت سر پر سوار کر کے پی ٹی آئی نے ریاست کو ٹکر دینے کا ارادہ کر لیا تھا۔ لیکن پی ٹی آئی شاید یہ بات بھول گئی تھی کہ نہ تو یہ 2014 ہے، اور نہ ہی ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے پر ریٹائرڈ جنرل ظہیر الاسلام۔یاد رہے یہ وہی ڈی چوک ہے جہاں 126 دن تک یہی تحریک انصاف، کنٹینر، بڑے بڑے سپیکرز سمیت سردی اور گرمی میں بیٹھی رہی اور کبھی کسی قسم کی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا، اس وقت بھییہی پاکستان مسلم لیگ ن برسر اقتدار تھی۔
ریاست مخالف بیانیے کے بعد بھی اس بات کی توقع کرنا کے اسٹیبلشمنٹ اور حکومت بیک فٹ پر آ جائیں گی، محض ایک بیوقوفی تھی۔ خاص کر جب آپ کے سر پر ملٹری ٹرائل کے بادل منڈلا رہے ہوں، 9 مئی واقعات کے مقدمات میں آپ زیر عتاب ہوں، جنرل فیض حمید ملٹری حراست میں ہوں، ایسے موقع پر ریاست کا آپ کی جماعت کو 2014 کی طرح کھلا میدان دینا ایک دیوانے کا خواب معلوم ہوتا ہے۔
ایک اور زاویے سے سیکھا جائے تو وفاقی وزرا اور خیبرپختونخوا کے صوبائی وزرا کے کچھ بیانات اس بات کا اشارہ دینے ہیں کہ ڈی چوک جانے اور وہاں رکنے کا حتمی فیصلہ عمران خان اور پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ ‘غیر سیاسی اور شریعت پسند’ سابق خاتونِ اوّل ، بشریٰ بی بی کا تھا۔
محسن نقوی نے بھی میڈیا کو کھل کر بتایا کہ عمران خان اور پی ٹی آئی اسلام آباد کے مضافات میں جلسے اور احتجاج کیلئے تیار تھے۔ اس بات کی تصدیق بیرسٹر سیف نے بھی اپنے بیان میں کی کہ ڈی چوک جانے کا فیصلہ صرف بشریٰ بی بی کا تھا۔
اتنے بڑے فیصلے میں، جس کا تمام تر دار و مدار تحریک انصاف اور عمران خان کی سیاست پر تھا، بشریٰ بی بی کے فیصلے نے اپنی حیثیت دکھائی اور پی ٹی آئی کو اس کا بھاری نقصان اٹھا پڑا۔پی ٹی آئی کارکنان اور سیکیورٹی اہلکاروں سمیت درجنوں افراد جان سے گئے، ریاست نے اپنی رٹ کو قائم کیا اور وہ کر کے دکھایا جس کی وہ مسلسل ایک ہفتے سے تنبیہہ کر رہے تھے۔
گو یہ بات ثابت ہوئی کے مقتدرہ کی خواہش اور آشیر باد کے بغیر ریاست پاکستان میں کوئی بھی احتجاجی تحریک غیر مؤثر ہے۔ جہاں تحریک انصاف کو اپنی سیاسی حکمت عملی حقیقت پسندانہ طریقے سے بنانے کی ضرورت ہے، وہیں ریاست کو بھی چاہیے کہ عوام کی رائے اور پسند کو پہلی ترجیح پر رکھ کر معاملات کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کی کوشش کرے۔
یہ تو معلوم نہیں کہ اس احتجاجی تحریک کے طویل مدتی نتائج کیا ہوں گے لیکن یہ بات تو واضح ہے کہ خیبرپختونخوا کے عوام کو باقی ملک کے عوام اور اداروں سے یکجا کرنے میں مشکلات پیش آئیں گی۔ وفاقی وزراء، پنجاب اور سندھ کے صوبائی وزرا نے متعدد بار لفظ ‘پٹھان اور پشتون ‘ کو پی ٹی آئی سے منسلک کر کے تنقید کا نشانہ بنایا جس کے نتائج آنے والوں وقتوں میں سامنے آنے کے قوی امکانات ہیں
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں