سال 2024: معلومات تک رسائی کے قوانین پر عملدرآمد میں ناکامی

 

 564

سال 2024 کے اختتام اور سال 2025 کے آغاز پر جہاں ہم دیگر شعبوں میں سود و زیاں کا حساب کر رہے ہیں وہیں معلومات تک رسائی کے قوانین پر عملدرآمد کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے کیونکہ پاکستان میں معلومات تک رسائی کے قوانین کو نافذ ہوئے ایک دہائی سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔

اس کے باوجود ان قوانین کے نفاذ کے حقیقی مقاصد کا حصول تو دور کی بات ہے ان قوانین پر عملدرآمد بھی درست طور پر شروع نہیں ہو سکا ہے، اس وجہ سے جہاں سرکاری امور کی انجام دہی میں بیوروکریسی کا رویہ کسی بھی قسم کے احتساب سے بالاتر ہو چکا ہے وہیں سول سوسائٹی کی طرف سے سرکاری امور کی انجام دہی میں بیوروکریسی سے جوابدہی اور شفافیت یقینی بنانے کی کوششیں بھی غیر موثر ہوتی جا رہی ہیں۔

پنجاب ٹرانسپیرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013ء کے تحت متعلقہ محکمے کو سیکشن 10 (7) کے تحت 14 دن میں مطلوبہ معلومات کی فراہمی کا پابند بنایا گیا ہے، معلومات کی عدم فراہمی یا نامکمل معلومات کی فراہمی پر شہری صوبائی انفارمیشن کمیشن میں اپیل دائر کر سکتا ہے جس پر کمیشن کو سیکشن 6 (2) کے تحت 30 سے 60 دن کے اندر فیصلہ یا جرمانہ کرنا ہوتا ہے۔

خیبرپختونخوا رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013 کے سیکشن 11 کے تحت اگر کوئی ادارہ کسی شہری کی درخواست پر دس سے بیس دنوں میں معلومات فراہم نہیں کرتا تو اس محکمے کے خلاف انفارمیشن کمیشن میں شکایت درج کی جا سکتی ہے۔ انفارمیشن کمیشن کو اس طرح کی شکایات پر سیکشن 23 (3) کے تحت 60 دنوں میں فیصلہ کرنا ہوتا ہے جس میں متعلقہ ادارے سے معلومات لے کر شہری کو فراہم کرنا اور محکمے پر قانون کی مطابق جرمانہ عائد کرنا شامل ہے۔

سندھ ٹرانسپیرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2016ء کے تحت سرکاری محکموں کو درخواست گزار شہریوں کو معلومات کی فراہمی کے لئے 15 سے 25 دنوں کا وقت دیا گیا ہے۔ معلومات کی عدم فراہمی پر شہری کو مذکورہ قانون کے تحت مذکورہ محکمے کے سربراہ کو انٹرنل ریویو اور پھر 30 دن انتظار کے بعد سندھ انفارمیشن کمیشن میں اپیل فائل کرنا ہوتی ہے جس پر کمیشن کی طرف سے 45 دن میں جرمانہ یا فیصلہ دینا لازم ہے۔

بلوچستان رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2021 کے تحت سرکاری محکموں کو درخواست گزار شہریوں کو معلومات کی فراہمی کے لئے 30 سے 60 دنوں کا وقت دیا گیا ہے۔ معلومات کی عدم فراہمی پر شہری بلوچستان انفارمیشن کمیشن میں اپیل فائل کر سکتے ہیں جس پر شق 17 (3) کے مطابق کمیشن کو 60 دن میں فیصلہ دینا یا شق 22 کے تحت جرمانہ کرنا لازم ہے۔ اس قانون کی شق 18 (1) کے مطابق قانون کی منظوری کے 120 دن میں بلوچستان انفارمیشن کمیشن کی تشکیل کو لازمی قرار دیا گیا تھا، تاہم تین سال گزرنے کے باوجود بلوچستان انفارمیشن کمیشن تاحال فعال نہیں ہو سکا ہے۔

وفاق میں نافذ رائٹ آف ایکسیس ٹو انفارمیشن ایکٹ 2017ء کے سکیشن 14 میں سرکاری محکموں کو دس دنوں میں معلومات کی فراہمی کا پابند بنایا گیا ہے اور معلومات کی عدم فراہمی پر پاکستان انفارمیشن کمیشن کو 60 دن میں شکایت پر جرمانہ یا فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔

تاہم سرکاری محکموں کی طرف سے آر ٹی آئی قوانین کے تحت شہریوں کو معلومات کی عدم فراہمی پر انفارمیشن کمیشنز میں دائر کی گئی اپیلوں پر مقررہ مدت میں جرمانے یا فیصلے نہ ہونے کی وجہ سے اپیلیں مہینوں زیر التواء رہتی ہیں۔ اس دوران زیادہ تر شہری یا تو تھک ہار کر خود ہی اپنی اپیلوں کی پیروی سے دستبردار ہو جاتے ہیں یا انفارمیشن کمیشنز کی جانب سے شہریوں کی طرف سے کی گئی اپیلوں کو بغیر اطلاع دیئے ڈسپوز آف کر دیا جاتا ہے۔

انفارمیشن کمیشنز کی جانب سے شہریوں کی طرف سے دائر کی گئی اپیلوں کے جواب میں ہونے والی کارروائی سے متعلق بھی باضابطہ طور پر آفیشل ای میل یا ڈاک کے ذریعے شکایت کنندگان کو آگاہ نہیں کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی اپیل کنندہ اس بارے میں بار بار رابطہ کرے تو انفارمیشن کمیشن کا عملہ ذاتی واٹس ایپ نمبرز کے ذریعے کوئی اعتراض، نوٹس یا معلومات شیئر کر دیتا ہے جو انفارمیشن کمیشنز کے امور میں شفافیت اور پروفیشنل ازم کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔

علاوہ ازیں پاکستان میں رائج معلومات تک رسائی کے قوانین میں بنیادی خامی یہ ہے کہ اگر کسی شہری کی درخواست پر کسی انفارمیشن کمیشن کی طرف سے متعلقہ محکمے کے خلاف کارروائی نہیں کی جاتی یا کارروائی سے درخواست گزار کی شکایت دور نہیں ہوتی تو ایسا کوئی فورم نہیں ہے جہاں انفارمیشن کمیشن کے خلاف اپیل کی جا سکے۔

ذاتی تجربے کی بنیاد پر میں یہ کہنا چاہوں گا کہ آر ٹی آئی قوانین پر عملدرآمد کے حوالے سے سال 2024 کسی بھی طرح بہتر قرار نہیں دیا جا سکتا ہے بلکہ اس سال انفارمیشن کمیشنز کی ورکنگ میں مزید تنزلی آئی ہے۔

پاکستان میں معلومات تک رسائی کے قوانین پر عملدرآمد بہتر بنانے کے لئے ضروری ہے کہ چیف انفارمیشن کمشنرز اور انفارمیشن کمیشنرز کے عہدوں پر بیوروکریسی یا جوڈیشری سے ریٹائرڈ افسران کو بھرتی کرنے کی بجائے سول سوسائٹی یا آر ٹی آئی ایکٹوسٹس کا کردار بڑھایا جائے تاکہ سرکاری محکموں کے امور اور گورننس کے معاملات میں شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنایا جا سکے


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

ایرانی برادری: متحدہ عرب امارات کی ترقی کی ایک کڑی

ایران جنگ صرف خطے تک محدود نہیں: یہ ایک عالمی بحران کا آغاز بن گیا ہے۔

آبنائے ہرمزاور نہر سوئز میں ٹول کا قانونی فرق: مصر کیوں جائز، ایران کیوں ناجائز؟