پاکستان کا خلائی سفر: چین نے دو خلابازوں کا انتخاب کر لیا، ایک مشن پر جائے گا۔


چین نے اپنی خلائی تاریخ میں پہلی بار غیر ملکی خلابازوں کا انتخاب کیا ہے اور یہ اعزاز پاکستان کو ملا ہے۔ پاکستانی خلاباز چینی خلائی اسٹیشن مشن کے لیے دو ناموں کا اعلان کیا گیا ہے: محمد زیشان علی اور خرم داؤد۔ یہ دونوں پاکستانی خلاباز بیجنگ میں چینی اسٹیشن کے لیے تربیت حاصل کریں گے۔ چینی خلائی ایجنسی نے بتایا کہ تربیت مکمل ہونے پر ان میں سے ایک خلاباز کو چینی خلائی اسٹیشن پر بھیجا جائے گا ۔

یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب پاکستان کے سپارکو نے اعلان کیا کہ یہ دونوں امیدوار چین کے خلاباز مرکز میں جدید تربیت حاصل کریں گے۔ یہ تربیت اپریل ۲۰۲۶ کے آخر میں شروع ہو چکی ہے۔ گزشتہ برس فروری ۲۰۲۵ میں دونوں ممالک کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت چین پاکستانی خلاباز کو اپنے اسٹیشن پر بھیجنے پر متفق ہوا تھا ۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر چین نے پہلا موقع پاکستان کو کیوں دیا؟ اس کی وجہ پاک چین کی دیرینہ دوستی اور اسٹریٹجک پارٹنرشپ ہے۔ پاکستان چین کا ’راہ نما‘ دوست ہے اور دونوں ممالک نے اب تک دفاع، انفراسٹرکچر اور توانائی میں تعاون کیا ہے۔ اب یہ تعاون خلاء تک پہنچ گیا ہے ۔

چینی خلائی اسٹیشن پر جانے والا پہلا غیر ملکی خلاباز کون ہوگا؟


دونوں پاکستانیوں میں سے صرف ایک کو چینی خلائی اسٹیشن پر جانے کا موقع ملے گا۔ فی الحال یہ طے نہیں کیا گیا کہ محمد زیشان علی جائیں گے یا خرم داؤد۔ چینی خلائی ایجنسی کے مطابق، یہ فیصلہ ان کی تربیت کے آخری مراحل میں کیا جائے گا جب یہ دیکھا جائے گا کہ کون زیادہ بہتر کارکردگی دکھاتا ہے ۔

جو خلاباز منتخب ہوگا وہ ’پے لوڈ سپیشلسٹ‘ کے طور پر جائے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ خلاء میں سائنسی تجربات کرنے کے لیے ذمہ دار ہوگا۔ یہ مشن ۲۰۲۶ کے آخر میں لانچ ہونے کا امکان ہے۔ اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو یہ شخص پہلا غیر ملکی خلاباز ہوگا جو چینی خلائی اسٹیشن پر قدم رکھے گا ۔

یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ چین اس وقت واحد ملک ہے جس کا اپنا الگ خلائی اسٹیشن موجود ہے۔ انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن میں چین کو شامل نہیں کیا گیا تھا، اس لیے چین نے اپنا اسٹیشن بنا لیا۔ اب یہ اسٹیشن دنیا کے سامنے کھلا ہے اور پاکستان اس کا پہلا غیر ملکی پارٹنر بنا ہے ۔

متعلقہ خبر: چین کا چھٹا خلائی مشن ’شینزو ۲۰‘ کامیاب، خلا میں نئے ریکارڈ قائم [لنک داخل کریں]

پاکستان اور چین کے درمیان خلائی تعاون کے کیا معنی ہیں؟

یہ معاہدہ محض دو خلابازوں کا تبادلہ نہیں بلکہ پاکستان کے لیے ایک بڑی چھلانگ ہے۔ پاکستان نے اپنی تاریخ میں کبھی کسی انسان کو خلا میں نہیں بھیجا۔ پاکستانیوں کی سب سے بلند پرواز ۲۰۲۳ میں نمیرہ سلیم کی تھی جو ۸۷ کلومیٹر کی بلندی تک گئی تھی، لیکن وہ بھی ایک تجارتی پرواز تھی۔ اب پاکستان ان چند ممالک کی فہرست میں شامل ہو جائے گا جنہوں نے انسانی خلائی پرواز کی ہے ۔

اسی تناظر میں، پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے ان خلابازوں سے ملاقات کی اور کہا کہ یہ پاکستان کی تاریخ کا نیا باب ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاک چین کی بھائی چارہ اب خلاء تک پہنچ گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں اس خبر کو بڑے جوش و خروش سے پذیرائی ملی ہے ۔

درحقیقت، یہ تعاون پاکستان کے لیے صرف اعزاز کی بات نہیں بلکہ عملی طور پر بھی فائدہ مند ہے۔ پاکستانی خلاباز خلا میں سائنسی تحقیق کریں گے، جس سے پاکستان کو جدید ٹیکنالوجی اور سائنس کے شعبوں میں تجربہ حاصل ہوگا۔ یہ وہ راستہ ہے جس پر چین خود چلا ہے — اس نے پہلے دوسروں سے سیکھا، پھر اپنی ٹیکنالوجی بنائی۔

خلابازوں کی تربیت میں کیا کیا جاتا ہے؟

دونوں پاکستانی امیدواروں نے گزشتہ برسوں میں سخت مراحل سے گزر کر یہ مقام حاصل کیا ہے۔ انہیں ابتدائی، ثانوی اور حتمی مراحل میں پرکھا گیا۔ اب انہیں چینی خلائی مرکز میں وہی تربیت دی جائے گی جو چینی خلابازوں کو دی جاتی ہے ۔

تربیت میں چینی زبان سیکھنا بھی شامل ہے کیونکہ خلائی اسٹیشن میں تمام ہدایات اور نظام چینی زبان میں ہیں۔ اس کے علاوہ، انہیں خلائی جہاز کے ڈھانچے، انجنئرنگ، فزکس، ایمرجنسی حالات سے نمٹنے کے طریقے اور خلاء میں رہنے کے گر سکھائے جائیں گے۔ ایک ماہر کے مطابق، یہ دونوں امیدوار پہلے سے ہی ذہین اور صحت مند ہیں، اس لیے یہ تربیت ان کے لیے مشکل نہیں ہوگی ۔

اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو وہ ایک سال سے بھی کم عرصے میں خلاء میں پرواز کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔

پاکستانی خلاباز خلائی اسٹیشن پر کیا تجربات کریں گے؟

جو خلاباز چینی اسٹیشن پر جائے گا وہ وہاں سائنسی تجربات کرے گا۔ یہ تجربات مائیکرو گریوٹی (کشش ثقل کی عدم موجودگی) میں کیے جائیں گے۔ ان تجربات کا تعلق میٹریل سائنس، فلوئڈ فزکس (پانی اور ہوا کے رویے)، لائف سائنسز اور بائیو ٹیکنالوجی سے ہوگا ۔

ان تجاربات کے نتائج سے زمین پر موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے، خوراک کی حفاظت اور صنعتی ترقی میں مدد مل سکتی ہے۔ مختصر یہ کہ یہ صرف ایک تقریبی پرواز نہیں بلکہ ایک سائنسی مشن ہے۔

چین نے پاکستان کو خلائی مشن میں کیوں شامل کیا؟

چین نے ہمیشہ کہا ہے کہ وہ خلاء کو فوجی مقاصد کے بجائے امن اور انسانیت کی بھلائی کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔ چینی میڈیا کے مطابق، چین نے ’خلائی جمہوریت‘ کا تصور پیش کیا ہے جس کے تحت ترقی پذیر ممالک کو بھی خلائی ٹیکنالوجی تک رسائی ملنی چاہیے ۔

پاکستان کو اس لیے چنا گیا کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی سطح بہت بلند ہے۔ امریکہ اور روس کے پاس تو خلائی اسٹیشن ہیں لیکن وہ پاکستان کو اس طرح کی سہولت نہیں دے سکتے۔ چین نے یہ موقع دے کر دنیا کو ایک پیغام دیا ہے کہ وہ ترقی پانے والے ممالک کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہے۔

پاکستان کے خلائی پروگرام کے لیے اس مشن کی کیا اہمیت ہے؟

سپرکو کے لیے یہ ایک تاریخی لمحہ ہے۔ پاکستان کا خلائی پروگرام کئی دہائیوں سے کام تو کر رہا تھا لیکن وہ انسان کو خلاء میں بھیجنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تھا۔ اب چین کی مدد سے پاکستان یہ خواب پورا کر سکے گا۔ اس سے پاکستان کے نوجوانوں میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں دلچسپی بڑھے گی ۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پاکستان کے لیے ایک ’سافٹ پاور‘ کا موقع ہے۔ جب پاکستانی پرچم خلا میں لہرائے گا تو اس سے پاکستان کی دنیا میں تصویر بہتر ہوگی۔

خلائی صنعت کے ماہرین کے مطابق، پاکستان کو اب چینی ماڈل سے سیکھنا چاہیے۔ چین نے چند دہائیوں میں صفر سے خلائی طاقت بننے کا سفر طے کیا۔ پاکستان بھی یہی کر سکتا ہے اگر صحیح حکمت عملی اپنائی جائے۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

سوال: پاکستان کے دو خلاباز کون ہیں جو چین جا رہے ہیں؟

جواب: یہ دو پاکستانی ہیں: محمد زیشان علی اور خرم داؤد۔ یہ دونوں چینی خلائی اسٹیشن کے مشن کے لیے منتخب ہوئے ہیں اور فی الحال بیجنگ میں تربیت حاصل کر رہے ہیں ۔

سوال: کیا دونوں خلاباز خلا میں جائیں گے؟

جواب: نہیں، ان دونوں میں سے صرف ایک کو چینی خلائی اسٹیشن پر بھیجا جائے گا۔ یہ فیصلہ تربیت مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا ۔

سوال: پاکستانی خلاباز کو خلا میں کب بھیجا جائے گا؟

جواب: یہ مشن ۲۰۲۶ کے آخر میں لانچ ہونے کا امکان ہے۔ ابھی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ۔

سوال: پاکستانی خلاباز چینی اسٹیشن پر کیا کرے گا؟

جواب: وہ خلا میں سائنسی تجربات کرے گا جس کا تعلق میٹریل سائنس، بائیو ٹیکنالوجی اور فزکس سے ہوگا۔ یہ تجربات مائیکرو گریوٹی میں کیے جائیں گے ۔

سوال: کیا پاکستان نے پہلے کبھی انسان کو خلا میں بھیجا ہے؟

جواب: نہیں، پاکستان نے اپنی تاریخ میں کبھی کسی انسان کو خلا میں نہیں بھیجا۔ یہ پہلا موقع ہوگا جب کوئی پاکستانی سرکاری طور پر خلائی مشن پر جائے گا ۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

ایرانی برادری: متحدہ عرب امارات کی ترقی کی ایک کڑی

ایران جنگ صرف خطے تک محدود نہیں: یہ ایک عالمی بحران کا آغاز بن گیا ہے۔

آبنائے ہرمزاور نہر سوئز میں ٹول کا قانونی فرق: مصر کیوں جائز، ایران کیوں ناجائز؟