روپے کی تیزی اور عالمی تیل کی سستی: پھر کیوں بڑھی پاکستان میں پیٹرول کی قیمت؟
قومی دارالحکومت اسلام آباد سے لے کر کراچی کی گلیوں تک، موٹرسائیکل سوار سے لے کر ٹرک ڈرائیور تک اور غریب سے لے کر متوسط طبقے تک — پاکستان میں پیٹرول کی قیمتوں میں ٢٦۔٧٧ روپے فی لیٹر کا اضافہ ایک بار پھر مہنگائی کا ایک نیا طوفان لے کر آیا ہے۔ مالی سال ٢٠٢٦ کے آخری مہینوں میں جہاں عوام کو ریلیف کی امید تھی، وہاں حکومت نے ایک بار پھر پیٹرولیم مصنوعات کے دام بڑھا دیے ہیں۔ نئی قیمت ٣٩٣ روپے ٣٥ پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے اور ڈیزل ٣٨٠ روپے ١٩ پیسے فی لیٹر ہو گیا ہے ۔ یہ اضافہ اتنا بڑا ہے کہ اس نے غریب اور متوسط طبقے کی امیدوں کو چکنا چور کر کے رکھ دیا ہے۔
مہنگائی کا یہ نیا حملہ دراصل بحیرہ عرب سے لے کر خلیج فارس تک پھیلی ہوئی جنگی آگ کا براہ راست نتیجہ ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز پر خطرات نے عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں کو آسمان سے لگا دیا ہے ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومت کے پاس واقعی کوئی اور راستہ نہیں تھا؟ کیا ایک ایسے ملک میں جہاں مہنگائی پہلے ہی ١٤ فیصد تک جا چکی ہو، اتنی بڑی قیمت میں اضافہ کرنا دانشمندی ہے ؟
Afghanistan did not increase petroleum prices despite a rise in global oil prices while Bangladesh raised them by only 4% and Sri Lanka by just 1%.In contrast, Pakistan increased petroleum prices by 20% all at once!— Shehzad Iqbal pic.twitter.com/ZEmJwd5tSm— برهان الدین | Burhan uddin (@burhan_uddin_0) April 25, 2026
ایران-امریکہ جنگ: ایک ایسا بحران جس کی قیمت پاکستانی عوام ادا کر رہے ہیں
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے پوری دنیا کی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کی ٢٠ فیصد تیل کی سپلائی گزرتی ہے، وہاں جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں ۔ اس صورتحال میں پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک پر سب سے زیادہ بوجھ پڑتا ہے۔ پٹرولیم وزیر علی پرویز ملک نے تسلیم کیا ہے کہ عالمی مارکیٹوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافے اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ معاہدوں کی وجہ سے حکومت پر بہت زیادہ دباؤ ہے ۔
درحقیقت، پاکستان اس وقت انتہائی مشکل صورتحال سے گزر رہا ہے۔ ایک طرف وہ ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی کوشش کر رہا ہے، تو دوسری طرف اس ثالثی کی قیمت اس کے اپنے شہری ادا کر رہے ہیں ۔ پاکستانی عوام کے لیے یہ صورتحال کسی تعزیت سے کم نہیں کہ ایک طرف ان کی حکومت امن کے لیے کوشاں ہے تو دوسری طرف مہنگائی ان کے گھر کا چولھا ٹھنڈا کر رہی ہے۔
آئی ایم ایف کا شرط: سبسڈی ختم کرو، ورنہ قرض نہیں
یہ بات اب سب پر عیاں ہو چکی ہے کہ پاکستان میں پیٹرول کے بڑھتے ہوئے داموں کی ایک بڑی وجہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) بھی ہے۔ ماہرین اقتصادیات کے مطابق آئی ایم ایف نے پاکستان پر دباؤ ڈال رکھا ہے کہ وہ پیٹرول اور ڈیزل پر سبسڈی ختم کرے اور مارکیٹ پر مبنی قیمتوں کا نظام نافذ کرے ۔
چوہدری محمد اکمل، معاشی تجزیہ کار، کے مطابق پاکستان کی توانائی پالیسی میں ہمیشہ طویل مدتی منصوبہ بندی کی بجائے فوری سیاسی ریلیف کو ترجیح دی گئی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مصنوعی طور پر ایندھن کی قیمتوں کو کم رکھنا دراصل فضول خرچی کو فروغ دینے کے مترادف ہے۔ اس سے زرمبادلہ کے ذخائر ختم ہوتے ہیں اور مالی خسارہ بڑھتا ہے ۔
اسی تناظر میں، پاکستان کو آئی ایم ایف کے ساتھ اپنے معاہدے کو برقرار رکھنے کے لیے یہ مشکل فیصلے کرنے پڑ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب پوری دنیا میں مہنگائی کم ہو رہی ہے، پاکستان میں یہ بڑھ رہی ہے۔
Pakistan faces 11 more IMF conditions—how much will the burden on the public increase@MiftahIsmail #Pakistan #IMF #MiftahIsmail #awaampakistan #inflation #Economy pic.twitter.com/zRelkqstyi
— Awaam Pakistan (@AwaamPakistan) April 23, 2026
پیٹرول مہنگا ہوا تو سستا ہوگا کیا؟ غریب کی کمر پر ایک اور بوجھ
پیٹرول کی قیمتوں میں ہونے والا یہ اضافہ صرف گاڑیوں کے ایندھن تک محدود نہیں رہے گا۔ بلکہ یہ وہ قوس قزح ہے جو مہنگائی کے سیلاب کو اپنے ساتھ بہا کر لائے گی۔ ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق مختصر مدتی مہنگائی کی شرح (SPI) پچھلے ہفتے ١٣۔٩٨ فیصد تک جا پہنچی ہے، جس کی سب سے بڑی وجہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہے ۔
اشیائے خوراک: آٹا، پیاز، ٹماٹر، دالوں کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ
ٹرانسپورٹ: اسکول وین، رکشوں، ٹیکسیوں کے کرایوں میں خاطر خواہ اضافہ
مہنگائی کی شرح: ٣٧ ہفتوں سے مسلسل بڑھ رہی ہے
زراعت: کھاد اور ٹریکٹروں کے ڈیزل مہنگا ہونے سے فصلوں کی لاگت میں اضافہ
سکیم ون کے رہائشی محمد افضال نے ڈان کو بتایا کہ اسکول وین والوں نے پہلے ہی ماہانہ فیسیں ١٠٠٠ روپے بڑھانے کا اعلان کر دیا ہے ۔ راولپنڈی چیمبر آف کامرس کی صدر نشین نے خبردار کیا کہ اس فیصلے کے معیشت، کاروبار اور عام آدمی پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے ۔
آدھے پاکستان کو بچانے کی کوشش: سندھ حکومت کی امداد اور وفاق کی خاموشی
سندھ حکومت نے اپنی سطح پر عوام کو ریلیف دینے کی کوشش کی ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے ٥٥ ارب روپے کے ریلیف پیکج کا اعلان کیا ہے ۔ اس پیکج کے تحت:
شعبہ ریلیف کی تفصیل
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب پورے پاکستان میں یہ مسئلہ ہے تو صرف سندھ ہی کیوں؟ کیا پنجاب کے کسان یا کے پی کے موٹرسائیکل سوار اس ریلیف کے مستحق نہیں؟ وفاقی حکومت نے ابھی تک کوئی ٹھوس اعلان نہیں کیا ہے۔
مہنگائی کا طوفان اور حکومت کا "ریلیف کا جھونسا"
نیشن اخبار میں شائع ہونے والے ایک تجزیے میں بتایا گیا ہے کہ حکومت نے اگرچہ عوام کو یہ باور کرایا کہ وہ عالمی قیمتوں کے جھٹکے کو جذب کرنے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے ۔ ایک طرف جہاں اسپین جیسے ممالک نے وبائی صورت حال میں اپنی VAT ٢١ فیصد سے کم کر کے ١٠ فیصد کر دی، وہاں پاکستان میں عوام پر ٹیکس کا بوجھ بڑھ رہا ہے ۔
مصنفہ عطیہ منور نے اپنے کالم میں لکھا ہے کہ پٹرولیم لیوی کی مد میں حکومت کو جو محصول مل رہا ہے، وہ بڑی حد تک فضول منصوبوں اور اشرافیہ کے خرچوں پر صرف ہو رہا ہے ۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پاکستان نے اپنا خرچ نکالنے کا یہی طریقہ جاری رکھا تو معاشرے میں غریب اور امیر کے درمیان تصادم ناگزیر ہو جائے گا۔
غلہ منڈیوں سے لے کر کچوں تک: مہنگائی کی چکی میں پس رہا عوام
پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے کا مطلب ہے کہ اب روٹی، سبزی، پھل، دودھ اور سب کچھ مہنگا ہو جائے گا۔ اسلام آباد میں بے شمار شہریوں نے ہندوستان ٹائمز کو بتایا کہ مارکیٹوں میں سبزیوں اور آٹے کی قیمتیں پہلے ہی بڑھ چکی ہیں اور لوگوں کے لیے گزارہ کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے ۔
حکومت نے اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے پاس کوئی اور راستہ نہیں تھا۔ تاہم، سوال یہ ہے کہ کیا کسی بھی صورت حال میں حکومت عوام کی پشت پر بوجھ ڈالنے کے سوا کوئی اور تدبیر نہیں کر سکتی؟ حکومت نے اسلام آباد میں ایک ماہ کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ مفت کرنے کا اعلان تو کر دیا ہے، لیکن یہ بھی صرف دارالحکومت تک محدود ہے ۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
س: پاکستان نے پیٹرول کی قیمت میں ٢٦۔٧٧ روپے کا اضافہ کیوں کیا؟
ج: ایران-امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز پر خطرات کی وجہ سے عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بہت زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ پٹرولیم وزیر کے مطابق حکومت بین الاقوامی شرائط کے تحت قیمتوں میں یہ اضافہ کرنے پر مجبور تھی ۔
س: پاکستان میں ڈیزل کی نئی قیمت کیا ہے؟
ج: ڈیزل کی نئی قیمت ٣٨٠ روپے ١٩ پیسے فی لیٹر ہے۔ یہ قیمت ٢٦ اپریل ٢٠٢٦ سے نافذ العمل ہے۔ اس سے پہلے ڈیزل ٣٥٣ روپے ٤٢ پیسے فی لیٹر تھا، جس میں ایک ہی ہفتے میں ٢٦۔٧٧ روپے کا اضافہ ہوا ہے ۔
س: پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا غریب عوام پر کیا اثر پڑے گا؟
ج: اس اضافے سے ٹرانسپورٹ کے کرایے، اشیائے خوراک، سبزیوں اور دودھ کی قیمتیں بڑھ جائیں گی۔ اسکول وین کے فیسیں بھی بڑھ جائیں گی، جس سے غریب اور متوسط طبقے کی مشکلات مزید بڑھ جائیں گی ۔
س: آئی ایم ایف نے پاکستان کو پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کرنے پر مجبور کیا؟
ج: ہاں، آئی ایم ایف نے پاکستان پر سبسڈی ختم کرنے اور مارکیٹ پر مبنی قیمتوں کا نظام نافذ کرنے کا دباؤ ڈال رکھا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ شرائط قرض کی فراہمی کے لیے ضروری ہیں ۔
س: کیا حکومت نے عوام کو کوئی ریلیف دیا ہے؟
ج: سندھ حکومت نے موٹرسائیکل مالکان، چھوٹے کسانوں اور ٹرانسپورٹرز کے لیے ٥٥ ارب روپے کا ریلیف پیکج دیا ہے، جبکہ وفاق نے اسلام آباد میں ایک ماہ کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ مفت کرنے کا اعلان کیا ہے ۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں