پاکستان میں پیکا ایکٹ کیخلاف درخواستوں پر سندھ ہائیکورٹ میں سماعت، وفاقی حکومت نے مہلت مانگ لی

پاکستان میں وفاقی حکومت نے پیکا ایکٹ (پاکستان الیکٹرانک کرائمز ایکٹ) کے خلاف دائر درخواست پر جواب جمع کرانے کے لیے سندھ ہائیکورٹ سے مزید وقت کی مہلت طلب کرلی ہے۔ یہ کیس سندھ ہائیکورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس جنید غفار کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سنا۔

پیکا ایکٹ کیخلاف درخواستوں کی اہمیت

سماعت کے دوران، چیف جسٹس جنید غفار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ کیس آئینی بنچ کا معاملہ بن سکتا ہے۔ تاہم، درخواست گزار کے وکیل نے وضاحت دی کہ یہ کیس آئینی بنچ کے زیر سماعت نہیں ہونا چاہیے بلکہ عدالت سے صرف ڈیکلریشن کی درخواست کی گئی ہے۔ عدالت نے اس موقع پر واضح کیا کہ یہ کیس اگر بنیادی انسانی حقوق کے آرٹیکل 19 اے سے متعلق نہ ہوتا تو آج ہی مسترد کر دیا جاتا۔

وفاقی حکومت کا موقف اور درخواست پر فیصلہ

وفاقی حکومت نے پیکا ایکٹ کے خلاف دائر درخواستوں پر جواب جمع کرانے کے لیے سندھ ہائیکورٹ سے مزید وقت مانگ لیا ہے۔ اس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ وفاقی حکومت کی درخواست پر غور کیا جائے گا۔ سندھ ہائیکورٹ نے پیکا ترمیمی ایکٹ کے خلاف درخواستوں کو آئینی بنچ کے سامنے پیش کرنے کا فیصلہ کیا اور تمام فریقین کو آئینی بنچ کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی۔

آئینی بنچ کی تشکیل اور آئندہ سماعت

آئینی بنچ 11 مارچ 2025 کو پیکا ترمیمی ایکٹ کے خلاف تمام درخواستوں کی سماعت کرے گا۔ اس اہم کیس کا فیصلہ پاکستان میں انٹرنیٹ کی آزادی اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

پیکا ایکٹ: ایک نظر میں

پیکا ایکٹ 2016 میں پاکستان میں انٹرنیٹ کرائمز سے نمٹنے کے لیے متعارف کرایا گیا تھا۔ اس کا مقصد آن لائن مواد کی نگرانی اور مجرمانہ سرگرمیوں کا انسداد ہے، تاہم اس ایکٹ کے کچھ حصے حقوق آزادی اظہار رائے پر سوالات اٹھا رہے ہیں، خاص طور پر اس کی ترمیمی دفعات کے حوالے سے۔

نتیجہ

پاکستان میں پیکا ایکٹ کے خلاف جاری قانونی جنگ عوامی سطح پر بحث کا باعث بنی ہوئی ہے۔ اس کیس کے نتائج پاکستان کے قانون میں اہم تبدیلیاں لا سکتے ہیں اور یہ فیصلہ آئندہ کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

ایرانی برادری: متحدہ عرب امارات کی ترقی کی ایک کڑی

ایران جنگ صرف خطے تک محدود نہیں: یہ ایک عالمی بحران کا آغاز بن گیا ہے۔

آبنائے ہرمزاور نہر سوئز میں ٹول کا قانونی فرق: مصر کیوں جائز، ایران کیوں ناجائز؟