سندھ کابینہ نے زرعی انکم ٹیکس کی منظوری دے دی،

سندھ کابینہ نے زرعی انکم ٹیکس کی منظوری دے دی، جنوری 2025 سے نافذ ہوگا

سندھ کابینہ نے زرعی انکم ٹیکس بل 2025 کی منظوری دے دی ہے، جو جنوری 2025 سے نافذ ہوگا۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اس بات کا اعلان کیا ہے کہ زرعی انکم ٹیکس میں لائیو اسٹاک کو شامل نہیں کیا گیا۔ اس نئے بل کے تحت مختلف زرعی آمدنی کی حدوں پر ٹیکس کی شرحیں متعارف کرائی گئی ہیں۔

زرعی انکم ٹیکس کی تفصیلات

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں سندھ کابینہ نے زرعی انکم ٹیکس بل کی منظوری دی، جس کے تحت زرعی آمدنی پر مختلف شرحوں پر ٹیکس عائد کیا جائے گا۔ اس بل کے مطابق:

  • 15 کروڑ روپے تک کی زرعی آمدنی پر زرعی انکم ٹیکس لاگو نہیں ہوگا۔
  • 15 کروڑ سے 20 کروڑ روپے تک زرعی آمدنی پر 1% ٹیکس لگے گا۔
  • 20 کروڑ سے 25 کروڑ روپے تک زرعی آمدنی پر 2% ٹیکس۔
  • 25 کروڑ سے 30 کروڑ روپے تک زرعی آمدنی پر 3% ٹیکس۔
  • 30 کروڑ سے 35 کروڑ روپے تک زرعی آمدنی پر 4% ٹیکس۔
  • 35 کروڑ سے 40 کروڑ روپے تک زرعی آمدنی پر 6% ٹیکس۔
  • 40 کروڑ سے 50 کروڑ روپے تک زرعی آمدنی پر 8% ٹیکس۔
  • 50 کروڑ روپے سے زائد زرعی آمدنی پر 10% ٹیکس عائد ہوگا۔

زرعی انکم ٹیکس کا نفاذ اور بورڈ آف ریونیو

سندھ حکومت نے زرعی انکم ٹیکس جمع کرنے کے لیے سندھ ریونیو بورڈ (ایس بی آر) کو ذمہ داری سونپی ہے۔ اس کے علاوہ، قدرتی آفات کی صورت میں زرعی انکم ٹیکس میں ایڈجسٹمنٹ کی سہولت بھی دی جائے گی۔ اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ اگر کوئی شخص آباد اراضی کو چھپاتا ہے تو اس پر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

زرعی انکم ٹیکس کا اثر

سندھ کابینہ کے مطابق، زرعی انکم ٹیکس کا نفاذ سبزیوں اور دیگر اجناس کی قیمتوں پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق، زرعی ٹیکس کے نفاذ کے بعد گندم، چاول اور دیگر اجناس کی قیمتوں میں اضافہ ہونے کا امکان ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ کابینہ نے ملکی مفاد میں زرعی ٹیکس کی منظوری دی ہے اور انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وفاقی حکومت سے ایک مرتبہ پھر بات کی جائے گی۔

نتیجہ

زرعی انکم ٹیکس بل 2025 کا نفاذ سندھ کی معیشت پر نمایاں اثر ڈالے گا، اور اس کے تحت مختلف زرعی آمدنی کی حدود پر ٹیکس عائد کیے جائیں گے۔ سندھ کابینہ کا یہ فیصلہ ملکی مفاد میں لیا گیا ہے، اور اس کے اثرات زرعی قیمتوں پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

ایرانی برادری: متحدہ عرب امارات کی ترقی کی ایک کڑی

ایران جنگ صرف خطے تک محدود نہیں: یہ ایک عالمی بحران کا آغاز بن گیا ہے۔

آبنائے ہرمزاور نہر سوئز میں ٹول کا قانونی فرق: مصر کیوں جائز، ایران کیوں ناجائز؟