بجٹ 2025-26: یوٹیوبرز اور ٹک ٹاکرز پر 3.5 فیصد ٹیکس


 

بجٹ 2025-26: یوٹیوبرز اور ٹک ٹاکرز پر 3.5 فیصد ٹیکس کی تجویز

مالی سال 2025-26 کے بجٹ کی تیاری مکمل ہونے کے قریب ہے، اور اس بار یوٹیوبرز، ٹک ٹاکرز اور دیگر ڈیجیٹل کانٹینٹ کریئیٹرز کے لیے ایک اہم خبر سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے سوشل میڈیا سے آمدنی حاصل کرنے والوں پر 3.5 فیصد ٹیکس عائد کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔

انسٹی ٹیوٹ آف کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاؤنٹنٹس کی تجویز

ذرائع کے مطابق یہ تجویز انسٹی ٹیوٹ آف کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان کی جانب سے پیش کی گئی ہے۔ اس ٹیکس کا مقصد قومی خزانے میں اضافی 52.5 ارب روپے کا ریونیو حاصل کرنا ہے۔ یوٹیوب، ٹک ٹاک، انسٹاگرام، فیس بک اور دیگر پلیٹ فارمز پر مواد بنا کر آمدنی حاصل کرنے والے افراد کو اس ٹیکس کے دائرہ کار میں لایا جائے گا۔

حکومت کا سنجیدہ غور

میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے اور امکان ہے کہ 10 جون 2025 کو پیش کیے جانے والے وفاقی بجٹ میں اس کا باقاعدہ اعلان کر دیا جائے گا۔ یہ اقدام پاکستان میں بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل معیشت کو ریگولیٹ کرنے اور ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کی کوشش کا حصہ ہے۔

اثرات اور ردِ عمل

اگر یہ تجویز منظور ہو جاتی ہے تو پاکستان میں کام کرنے والے ہزاروں یوٹیوبرز، ٹک ٹاکرز اور دیگر سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو اپنی آمدنی کا 3.5 فیصد ٹیکس کی صورت میں حکومت کو دینا پڑے گا۔ اس تجویز سے ڈیجیٹل کریئیٹرز میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، جبکہ بعض حلقے اسے معاشی استحکام کے لیے ایک مثبت قدم قرار دے رہے ہیں۔

نتیجہ

آنے والا بجٹ کئی حوالوں سے منفرد ہو سکتا ہے، خاص طور پر ڈیجیٹل سیکٹر سے وابستہ افراد کے لیے۔ اگر آپ بھی یوٹیوب یا ٹک ٹاک کے ذریعے آمدنی حاصل کرتے ہیں، تو آنے والے دنوں میں ٹیکس پالیسی پر قریبی نظر رکھنا ضروری ہے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

ایرانی برادری: متحدہ عرب امارات کی ترقی کی ایک کڑی

ایران جنگ صرف خطے تک محدود نہیں: یہ ایک عالمی بحران کا آغاز بن گیا ہے۔

آبنائے ہرمزاور نہر سوئز میں ٹول کا قانونی فرق: مصر کیوں جائز، ایران کیوں ناجائز؟