وزیر دفاع خواجہ آصف کا دوٹوک مؤقف: مسئلہ کشمیر، پانی اور دہشتگردی پر
وزیر دفاع خواجہ آصف کا دوٹوک مؤقف: مسئلہ کشمیر، پانی اور دہشتگردی پر بھارت سے مذاکرات ہوں گے
لاہور (ویب ڈیسک) – وزیر دفاع خواجہ آصف نے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ اگر بھارت کے ساتھ مذاکرات کا آغاز ہوا تو صرف خوش کن بیانات نہیں، بلکہ مسئلہ کشمیر، پانی کے تنازعات اور دہشتگردی جیسے سنجیدہ موضوعات پر ٹھوس بات چیت ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ مودی حکومت نے خطے کو مسلسل کشیدگی کی طرف دھکیلا ہے، مگر افواج پاکستان نے ہر محاذ پر بھارت کو منہ توڑ جواب دے کر دفاع وطن کا حق ادا کیا ہے۔
مسئلہ کشمیر: 76 سالہ تاریخ کا بنیادی مسئلہ
خواجہ آصف نے واضح کیا کہ کشمیر کا تنازعہ دونوں ممالک کے درمیان بنیادی رکاوٹ ہے اور اسی مسئلے پر بیشتر جنگیں بھی ہو چکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ وہ معاملہ ہے جس کا پائیدار حل نکالنا نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ دنیا کے امن کے لیے ناگزیر ہے۔
پانی کا مسئلہ اور سندھ طاس معاہدہ
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہدہ بین الاقوامی نوعیت کا معاہدہ ہے جسے معطل کرنے کی کوئی گنجائش نہیں۔ خواجہ آصف کے مطابق، پانی کی تقسیم پر پائیدار اور منصفانہ فریم ورک کے بغیر خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
دہشتگردی پر سنجیدہ مکالمے کی ضرورت
وزیر دفاع نے یہ بھی کہا کہ دہشتگردی کا شکار سب سے بڑا ملک پاکستان ہے، اور یہ مسئلہ پچھلے 20 سے 30 سالوں سے جاری ہے۔ انہوں نے بھارت پر الزام لگایا کہ وہ دہشتگردی کے مسئلے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتا رہا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے یہ موقع ’’سنہری‘‘ قرار دیا کہ دونوں ممالک مل بیٹھ کر اس ناسور کا مستقل حل نکالیں۔
مودی حکومت کی ناکامی اور پاکستان کی سفارتی فتح
خواجہ آصف نے کہا کہ بھارت اس وقت اندرونی اور بیرونی سطح پر دباؤ کا شکار ہے۔ بھارتی پارلیمنٹ میں وزیراعظم نریندر مودی پر تنقید ہو رہی ہے جبکہ عالمی سطح پر بھی بھارت کو مکمل حمایت حاصل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’اسرائیل کے علاوہ کوئی ملک بھارت کے ساتھ نہیں کھڑا‘‘، جو پاکستان کی سفارتی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
پاکستان کی دفاعی برتری اور قوم کا حوصلہ
وزیر دفاع نے زور دیا کہ پاکستان نے اپنی دفاعی صلاحیت سے دنیا کو متاثر کیا ہے۔ افواج پاکستان نے آہنی دیوار بن کر ہر بھارتی جارحیت کا جواب دیا ہے اور قوم کا حوصلہ بلند رکھا ہے۔ ان کے مطابق، پچھلے 77 سالوں میں پاکستان کو ایسی واضح فوجی اور سفارتی کامیابی کبھی حاصل نہیں ہوئی۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں