اسرائیل کا ایران پر بڑا فضائی حملہ: پاسداران انقلاب کے سربراہ سمیت کئی جوہری سائنسدان شہید
اسرائیل کا ایران پر بڑا فضائی حملہ: پاسداران انقلاب کے سربراہ سمیت کئی جوہری سائنسدان شہید
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر عروج پر پہنچ گئی ہے، جہاں اسرائیل کی جانب سے ایران پر ایک بڑا فضائی حملہ کیا گیا ہے۔ اس حملے کے نتیجے میں پاسداران انقلاب کے سربراہ حسین سلامی، ایرانی چیف آف اسٹاف سمیت کئی جوہری سائنسدان اور فوجی کمانڈرز شہید ہو گئے ہیں۔
فضائی حملے کی تفصیلات: درجنوں مقامات پر حملہ
اسرائیلی فضائیہ کے درجنوں لڑاکا طیاروں نے ایران کے مختلف شہروں میں فضائی حملے کیے۔ تہران کے شمال مشرقی علاقے میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں جبکہ متعدد مقامات سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھائی دیے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق، رہائشی عمارتوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں عام شہریوں کی ہلاکتیں ہوئیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ ایرنا نیوز ایجنسی نے حملے کے دوران تہران کے افق پر اٹھتے دھوئیں کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر جاری کی ہیں۔
اسرائیلی دعویٰ: پیشگی حملہ اور فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا
اسرائیلی وزیرِ دفاع نے اعلان کیا کہ یہ حملہ ایک پیشگی دفاعی کارروائی تھی۔ اسرائیلی فوجی عہدیدار کے مطابق، ایران کی جوہری اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں پاسداران انقلاب کے اعلیٰ عہدیداروں کی رہائش گاہیں بھی شامل تھیں۔
امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق، چھ بڑی فوجی تنصیبات اور اہم رہائشی مقامات اس حملے کی زد میں آئے، جس سے ایران کو بھاری جانی اور مالی نقصان ہوا ہے۔
ایران میں ہنگامی صورت حال، عالمی برادری کی تشویش
ایران نے حملے کے بعد ملک بھر میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔ دارالحکومت کے شمالی، مغربی اور وسطی علاقوں میں تباہی کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق، متاثرہ علاقوں میں خواتین اور بچوں کی لاشیں دیکھی گئیں۔
عالمی برادری نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں