ایران کا اسرائیل پر حملہ: وعدہ صادق سوم آپریشن میں شدت


 

ایران کا اسرائیل پر حملہ: وعدہ صادق سوم آپریشن میں شدت

ذرائع کے مطابق ایران نے "وعدہ صادق سوم" نامی فوجی آپریشن کے تحت پانچویں مرحلے میں اسرائیل پر میزائلوں کی بارش کر دی۔ ایرانی میزائل حملہ اتنا شدید تھا کہ تل ابیب میں اسرائیل کا جوہری تحقیقاتی مرکز بھی نشانہ بن گیا۔ حملے کے دوران اسرائیلی فوجی ہیڈکوارٹر مکمل تباہ ہو گیا جبکہ متعدد حساس مقامات پر بیلسٹک میزائل گرے۔

اسرائیل میں ہلاکتیں اور زخمی

حملے میں 4 اسرائیلی ہلاک اور 60 سے زائد زخمی ہو گئے۔ اسرائیلی حکومت کی جانب سے جاری کردہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کئی عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں، جبکہ شہریوں کی بڑی تعداد نے بنکروں میں پناہ لے رکھی ہے۔

اسرائیل کا دفاعی نظام ناکام

ایران کے میزائل حملوں نے اسرائیل کے مشہور دفاعی نظام "آئرن ڈوم" کو بھی ناکام بنا دیا۔ متعدد میزائل براہِ راست تل ابیب، یروشلم اور مقبوضہ بیت المقدس میں گرے، جن کے باعث شدید دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور ہر طرف سائرنز کی گونج سنائی دی۔

ایران کا دعویٰ: اسرائیلی طیارے تباہ، خاتون پائلٹ گرفتار

یاد رہے کہ ایران نے اس سے قبل بھی دو اسرائیلی لڑاکا طیارے مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا اور ایک خاتون پائلٹ کو گرفتار کرنے کی اطلاعات بھی دی تھیں۔ پہلے حملے میں 100، دوسرے اور تیسرے مرحلے میں تقریباً 50-50 میزائل داغے گئے تھے۔

میزائل حملوں کے اثرات: بجلی کا نظام متاثر

حملوں کے باعث اسرائیل کے کئی علاقوں میں بجلی کا نظام درہم برہم ہو چکا ہے۔ تل ابیب میں فوجی اڈے کو بھی نشانہ بنایا گیا، جبکہ اسرائیلی وزارت دفاع کی عمارت کے قریب آگ بھڑک اٹھی۔


نتیجہ

ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی انتہائی خطرناک موڑ پر پہنچ چکی ہے۔ ایران کی جوابی کارروائی سے اسرائیل کو بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ صورتحال تاحال کشیدہ ہے اور عالمی برادری دونوں ممالک سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کر رہی ہے۔


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

ایرانی برادری: متحدہ عرب امارات کی ترقی کی ایک کڑی

ایران جنگ صرف خطے تک محدود نہیں: یہ ایک عالمی بحران کا آغاز بن گیا ہے۔

آبنائے ہرمزاور نہر سوئز میں ٹول کا قانونی فرق: مصر کیوں جائز، ایران کیوں ناجائز؟