اداکارہ عائشہ خان کی پراسرار موت: بشریٰ انصاری کا جذباتی


 

اداکارہ عائشہ خان کی پراسرار موت: بشریٰ انصاری کا جذباتی ردِعمل

پاکستان کی مشہور سینیئر اداکارہ عائشہ خان کی اچانک موت نے شوبز انڈسٹری کو افسردہ کر دیا ہے۔ حالیہ دنوں کراچی کے علاقے گلشنِ اقبال میں ان کے فلیٹ سے ایک ہفتے پرانی لاش برآمد ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین نے ان کے اہلِ خانہ، خاص طور پر بچوں پر شدید تنقید کی۔

لیکن معروف اداکارہ بشریٰ انصاری نے اس حوالے سے اہم انکشافات کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پیغام شیئر کیا ہے جس میں انہوں نے نہ صرف عائشہ خان کی زندگی کے پہلوؤں پر روشنی ڈالی بلکہ ان کے بچوں کی حمایت بھی کی۔

بشریٰ انصاری کا ردعمل: حقائق سے پردہ اٹھایا

انسٹاگرام پر شیئر کی گئی ویڈیو میں بشریٰ انصاری نے کہا:

"میڈیا پر کچھ دنوں سے عائشہ خان آپا کے بارے میں بہت کچھ سن رہی ہوں۔ ان کی موت پر افسوس ہوا اور شرمندگی بھی کہ ہم نے کیوں نہیں دیکھا۔"

انہوں نے واضح کیا کہ لوگ سنسنی خیزی کے لیے غلط باتیں پھیلا رہے ہیں۔ بشریٰ انصاری کے مطابق، انہوں نے پانچ سال قبل عائشہ خان کے ساتھ ایک ڈرامے میں کام کیا تھا اور اس دوران ان سے ذاتی زندگی کے بارے میں بھی بات چیت ہوئی تھی۔

عائشہ خان نے انہیں بتایا تھا کہ ان کے بچے بیرونِ ملک رہائش پذیر ہیں اور ان کی مالی ضروریات کا مکمل خیال رکھتے ہیں۔

"بچے کہتے ہیں ہمارے ساتھ رہو، لیکن ان کا دل کراچی میں اپنے حلقہ احباب میں لگتا تھا۔"

افواہوں سے گریز کریں، دعاؤں کا وقت ہے

بشریٰ انصاری نے عوام سے اپیل کی کہ عائشہ خان کے بچوں پر الزام تراشی بند کی جائے، کیونکہ ان الزامات سے ان کو مزید تکلیف ہو سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا:

"یہ وقت تنقید کا نہیں، دعا کا ہے۔ عائشہ آپا کے ایصالِ ثواب کے لیے دعا کیجئے۔"

اداکارہ عائشہ خان کا فنی سفر

77 سالہ عائشہ خان پاکستان کے سنہری دور کی نامور اداکارہ تھیں۔ انہوں نے کئی کامیاب ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے جن میں افشاں، عروسہ، فیملی 93 اور مہندی شامل ہیں۔

وہ مشہور اداکارہ خالدہ ریاست کی بڑی بہن تھیں اور طویل عرصے سے شوبز انڈسٹری سے کنارہ کشی اختیار کیے ہوئے تھیں۔


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

ایرانی برادری: متحدہ عرب امارات کی ترقی کی ایک کڑی

ایران جنگ صرف خطے تک محدود نہیں: یہ ایک عالمی بحران کا آغاز بن گیا ہے۔

آبنائے ہرمزاور نہر سوئز میں ٹول کا قانونی فرق: مصر کیوں جائز، ایران کیوں ناجائز؟