پنجاب میں موسلادھار بارشوں سے تباہی


 

پنجاب میں موسلادھار بارشوں سے تباہی، چھتیں گرنے اور حادثات میں 24 افراد جاں بحق

پنجاب بھر میں جاری شدید موسلا دھار بارشوں نے تباہی مچا دی۔ مختلف شہروں میں بارش اور آندھی کے باعث حادثات میں 24 افراد جاں بحق جبکہ 92 افراد زخمی ہو گئے۔ لاہور سمیت متعدد علاقوں میں سڑکیں پانی سے بھر گئیں اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

لاہور میں شدید بارش، سڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش کرنے لگیں

لاہور اور گردونواح میں رات بھر وقفے وقفے سے جاری موسلا دھار بارش کے باعث شہر کی اہم شاہراہیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں۔ واسا کے مطابق لاہور کے مختلف علاقوں میں ریکارڈ بارش ہوئی:

  • پانی والا تالاب: 171 ملی میٹر

  • اقبال ٹاؤن: 169 ملی میٹر

  • تاجپورہ: 167 ملی میٹر

  • مغلپورہ: 135 ملی میٹر

  • لکشمی چوک: 133 ملی میٹر

حادثات کی ہولناک تفصیلات

ٹھوکر نیاز بیگ، لاہور:

علاقہ مرید وال میں ایک گھر کی چھت گرنے سے ایک ہی خاندان کے 5 افراد جاں بحق ہو گئے، جبکہ 2 افراد زخمی ہوئے۔ جاں بحق افراد میں 60 سالہ مانگا، 55 سالہ عشرت، 3 سالہ خدیجہ، 4 سالہ لطیفہ اور 35 سالہ رانی شامل ہیں۔

رائیونڈ، مشن کالونی:

مکان کی چھت گرنے سے 3 افراد جاں بحق جبکہ ایک شخص کو زندہ نکال لیا گیا۔

ہربنس پورہ، لاہور:

کرنٹ لگنے کے باعث 2 بچے جاں بحق ہو گئے۔

فیصل آباد:

رچنا ٹاؤن میں گھر کی خستہ حال چھت گرنے سے میاں بیوی جاں بحق جبکہ تینوں بچے محفوظ رہے۔

دیگر شہروں کی صورتحال:

  • رینالہ خورد: کرنٹ لگنے سے 2 افراد جاں بحق

  • چشتیاں: مکان کی چھت گرنے سے ماں بیٹا زخمی

  • پاکپتن: چھت گرنے سے 3 افراد زخمی

  • ننکانہ، گوجرانوالہ، حافظ آباد، وزیرآباد، سانگلہ ہل، منچن آباد، بہاولنگر، عارف والا، قصور، ڈسکہ، فاروق آباد: نشیبی علاقے زیر آب

محکمہ موسمیات اور این ڈی ایم اے کی پیشگوئی اور الرٹ

محکمہ موسمیات کے مطابق مون سون کا حالیہ سلسلہ 17 جولائی تک جاری رہنے کا امکان ہے اور آئندہ 24 گھنٹوں میں مزید شدید بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں بھی لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے، جس پر این ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کر دیا ہے۔


نتیجہ

پنجاب میں جاری موسلا دھار بارشوں نے جانی و مالی نقصان پہنچایا ہے۔ حکومت اور ریسکیو اداروں کو فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مزید نقصان سے بچا جا سکے۔ شہریوں سے اپیل ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

ایرانی برادری: متحدہ عرب امارات کی ترقی کی ایک کڑی

ایران جنگ صرف خطے تک محدود نہیں: یہ ایک عالمی بحران کا آغاز بن گیا ہے۔

آبنائے ہرمزاور نہر سوئز میں ٹول کا قانونی فرق: مصر کیوں جائز، ایران کیوں ناجائز؟