غزہ میں غذائی قلت کی سنگین صورتحال:
غزہ میں غذائی قلت کی سنگین صورتحال: اقوامِ متحدہ کا انتباہ، امدادی کاروائیاں دوبارہ شروع
غزہ میں غذائی قلت ایک خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، عالمی ادارہ صحت (WHO) نے خبردار کیا ہے کہ علاقے میں غذائی قلت کی شرح "تشویشناک سطح" پر پہنچ چکی ہے اور یہ صورتحال "خطرناک سمت" میں بڑھ رہی ہے۔
اردن اور متحدہ عرب امارات کی مشترکہ امدادی کارروائی
اتوار کے روز اردن نے اعلان کیا کہ اس نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے غزہ میں 25 ٹن امدادی سامان فضائی ذریعے سے گرایا۔ یہ کاروائی اس وقت عمل میں لائی گئی جب اسرائیل نے غزہ میں فوجی کارروائیوں میں جزوی وقفے (tactical pause) کا اعلان کیا، جس کے تحت روزانہ 10 گھنٹے کے لیے کچھ علاقوں میں جنگی کارروائیاں روک دی جائیں گی تاکہ امدادی قافلوں کو رسائی دی جا سکے۔
اسرائیلی موقف اور حماس کا ردعمل
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام "دانستہ قحط کے جھوٹے الزامات" کی تردید کے لیے کیا جا رہا ہے۔ تاہم، حماس نے اس اعلان کو اسرائیل کی جانب سے "اپنی شبیہ کو بہتر دکھانے کی کوشش" قرار دیا اور اسے مسترد کر دیا۔
اقوامِ متحدہ کی امدادی نقل و حرکت میں بہتری
اقوامِ متحدہ کے انسانی امداد کے سربراہ ٹام فلیچر نے اتوار کو تصدیق کی کہ اسرائیل کی جانب سے کچھ نقل و حرکت کی پابندیاں نرم کی گئی ہیں، جس سے امدادی قافلوں کو کچھ سہولت میسر آئی ہے۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف فضائی امداد سے غذائی قلت پر قابو پانا ممکن نہیں، جب تک زمینی راستوں سے مکمل، محفوظ اور باقاعدہ رسد کی اجازت نہ دی جائے۔
نتیجہ
غزہ میں موجودہ بحران عالمی برادری کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ عالمی ادارے اور علاقائی طاقتیں اگرچہ امدادی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ لاکھوں افراد کو اب بھی بنیادی خوراک، پانی اور ادویات کی اشد ضرورت ہے۔ مستقل اور محفوظ امدادی راستوں کے بغیر اس انسانی بحران پر قابو پانا مشکل ہو گا۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں