پاکستان اور یو اے ای کے درمیان تجربہ تبادلہ پروگرام میں تعاون بڑھانے پر اتفاق


 

پاکستان اور یو اے ای کے درمیان تجربہ تبادلہ پروگرام میں تعاون بڑھانے پر اتفاق

دبئی (خصوصی رپورٹ)متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی جانب سے شروع کیا گیا تجربہ تبادلہ پروگرام (EEP) ترقی پذیر ممالک کے ساتھ ادارہ جاتی صلاحیتوں کی تعمیر اور گورننس کو جدید بنانے کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم بنتا جا رہا ہے۔ حالیہ پیش رفت میں پاکستان نے اس پروگرام کے تحت اپنی شمولیت کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

پاکستانی وفد کی اعلیٰ سطحی شرکت

وزیر مملکت برائے خزانہ اور ریلوے، نیز وزیراعظم کے ڈلیوری یونٹ کے سربراہ بلال اظہر کیانی کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی پاکستانی وفد نے یو اے ای کا دورہ کیا۔ اس دورے کا مقصد مالیاتی نظم و نسق، بجٹ سازی، ٹیکس پالیسی، اور پبلک سیکٹر ڈیجیٹائزیشن جیسے اہم موضوعات پر گفتگو کرنا تھا۔

یو اے ای سے سیکھنے کا عزم

وفد نے یو اے ای کے وزیر مملکت برائے مالیاتی امور، محمد بن ہادی الحسینی سے تفصیلی ملاقات کی، جس میں دونوں رہنماؤں نے تجربات کا تبادلہ کیا اور مشترکہ معاشی و انتظامی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے علم کی ساختہ منتقلی پر زور دیا۔

مفاہمتی یادداشت (MoU) پر عملدرآمد

یہ دورہ گزشتہ ماہ دونوں ممالک کے درمیان دستخط کی گئی مفاہمتی یادداشت (MoU) کے تسلسل میں کیا گیا ہے، جسے پاکستان کی وزارت منصوبہ بندی اور یو اے ای کی وزارت کابینہ امور کے درمیان طے کیا گیا۔ اس یادداشت کے تحت دونوں ممالک ڈیجیٹل گورننس، شفافیت، اور طویل مدتی معاشی ترقی کے لیے تعاون کریں گے۔

بلال اظہر کیانی کا اصلاحاتی ایجنڈا

وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے پاکستان کا عوامی مالیاتی اصلاحات کا ایجنڈا پیش کیا اور یو اے ای کے ڈیجیٹل ماڈل سے سیکھنے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کے تحت جاری ای-گورننس، ای-کامرس اور میعاری معیشت کی بحالی پر مبنی اصلاحات کو سراہا۔

ادارہ جاتی بہتری کی طرف پیش رفت

دونوں ممالک نے بجٹ پریکٹسز، عوامی مالیاتی نگرانی، اور ٹیکس پالیسی اصلاحات جیسے اہم شعبوں میں گہرائی سے بات چیت کی۔ فریقین نے مشترکہ چیلنجز کی نشاندہی کی اور اداروں کی مضبوطی اور گورننس فریم ورک کی بہتری کے لیے مواقع تلاش کیے۔

پاکستان کی وابستگی

وزیر مملکت نے واضح کیا کہ پاکستان ساختی اصلاحات، مالیاتی نظم و ضبط، شفافیت، اور اچھی حکمرانی کے اصولوں پر کاربند ہے، تاکہ معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔

وفد میں کون کون شامل تھا؟

آٹھ رکنی وفد میں رکن قومی اسمبلی علی زاہد اور وزیراعظم آفس کے اعلیٰ حکام بھی شامل تھے۔ پاکستان کے سفیر برائے یو اے ای، فیصل نیاز ترمذی بھی ملاقات کے دوران موجود تھے۔


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

ایرانی برادری: متحدہ عرب امارات کی ترقی کی ایک کڑی

ایران جنگ صرف خطے تک محدود نہیں: یہ ایک عالمی بحران کا آغاز بن گیا ہے۔

آبنائے ہرمزاور نہر سوئز میں ٹول کا قانونی فرق: مصر کیوں جائز، ایران کیوں ناجائز؟