پشاور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ:
پشاور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ: خیبرپختونخوا کی مخصوص نشستوں کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار
پشاور ہائیکورٹ نے خیبرپختونخوا اسمبلی کی مخصوص نشستوں کی تقسیم سے متعلق الیکشن کمیشن کے دو اعلامیے کالعدم قرار دے دیے ہیں۔ یہ فیصلہ جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس ڈاکٹر خورشید اقبال پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سنایا، جس میں عدالت نے الیکشن کمیشن کو 10 روز میں مخصوص نشستوں کی ازسرنو تقسیم کا حکم دیا ہے۔
عدالت کی ہدایات:
دو صفحات پر مشتمل اس تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کی نئی ایلوکیشن تناسب کے مطابق کرے، اور اس عمل میں تمام سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کو سنا جائے۔
مخصوص نشستوں پر حلف روکنے کا حکم
عدالت نے مزید واضح کیا کہ جب تک مخصوص نشستوں کی دوبارہ تقسیم مکمل نہیں ہو جاتی، نئی منتخب اراکین حلف نہیں اٹھا سکیں گے۔
کیس کی تفصیل:
یہ مقدمہ مسلم لیگ ن کی جانب سے دائر کیا گیا تھا، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں کی تقسیم کرتے وقت ن لیگ کے 6 ارکان کو شمار کیا، حالانکہ پارٹی نے 8 فروری کے عام انتخابات میں 5 جنرل نشستیں حاصل کی تھیں۔
عدالت میں پیش ہونے والے وکلاء:
-
اسپیشل سیکرٹری لاء الیکشن کمیشن: محمد ارشد
-
وکیل الیکشن کمیشن: محسن کامران
-
مسلم لیگ ن کے وکیل: عامر جاوید، بیرسٹر ثاقب رضا
-
جے یو آئی کے وکیل: نوید اختر
-
فاروق آفریدی
سیاسی جماعتوں کو سنے بغیر تقسیم نامنظور:
پشاور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں کی تقسیم کا عمل سیاسی جماعتوں کو سنے بغیر مکمل کیا جو کہ آئینی و قانونی طور پر درست نہیں۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں