ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کا 23 اگست کو ڈھاکہ کا اہم دورہ: پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں نئی پیش رفت

 

ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کا 23 اگست کو ڈھاکہ کا اہم دورہ: پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں نئی پیش رفت

اسلام آباد: پاکستان کے ڈپٹی وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار 23 اگست کو بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کا دورہ کریں گے۔ اس دورے کو پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تیزی سے بہتر ہوتے تعلقات کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

ماضی کی تلخیاں اور نئے امکانات

پاکستان اور بنگلہ دیش ایک وقت میں ایک ہی ملک کا حصہ تھے، تاہم 1971 کی خونی خانہ جنگی کے بعد بنگلہ دیش نے علیحدگی اختیار کی۔ اس کے بعد کئی دہائیوں تک دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ رہے، خاص طور پر شیخ حسینہ کی حکومت کے دوران، جس نے بھارت سے قریبی تعلقات رکھے اور پاکستان سے فاصلہ برقرار رکھا۔

تاہم اگست 2024 میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے اور ان کے بھارت فرار کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے۔

اسحاق ڈار کا دورہ اور اہم ملاقاتیں

اسحاق ڈار نے معروف پاکستانی نیوز ویب سائٹ "ڈان" کو تصدیق کی ہے کہ وہ 23 اگست کو ڈھاکہ کا دورہ کریں گے۔ بنگلہ دیشی خبررساں ایجنسی "ڈھاکہ ٹریبیون" کے مطابق، اسحاق ڈار 24 اگست کو بنگلہ دیش کے امور خارجہ کے مشیر محمد توحید حسین سے ملاقات کریں گے۔ اس دورے میں دونوں ممالک کے درمیان رابطے بڑھانے اور دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے پر بات چیت کی جائے گی۔

باہمی تعلقات میں حالیہ مثبت پیش رفت

حالیہ مہینوں میں دونوں ممالک کے تعلقات میں کئی مثبت تبدیلیاں آئی ہیں:

  • ویزا فری معاہدہ: پاکستان اور بنگلہ دیش نے سفارتی اور سرکاری پاسپورٹ ہولڈرز کو ویزا فری انٹری دینے پر اصولی اتفاق کر لیا ہے۔

  • اعلیٰ سطحی سفارتی ملاقاتیں: اپریل میں پاکستان کی سیکریٹری خارجہ آمنہ بلوچ نے 15 سال بعد ڈھاکہ کا دورہ کیا، جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف نے مارچ میں بنگلہ دیش کے عبوری رہنما محمد یونس سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔

  • سرکاری سطح پر تجارتی بحالی: فروری 2025 میں دونوں ممالک کے درمیان 50,000 ٹن چاول کی درآمد کے ساتھ براہ راست حکومتی تجارتی تعلقات کا آغاز ہوا۔

  • فوجی تعلقات میں مضبوطی: جنوری میں دونوں ممالک کی افواج نے باہمی شراکت داری کو "بیرونی اثرات سے محفوظ" رکھنے پر زور دیا۔

  • نجی تجارت کی بحالی: نومبر 2024 میں نجی تجارتی تعلقات بحال ہوئے جب ایک پاکستانی کنٹینر شپ بنگلہ دیش کے لیے روانہ ہوئی۔

نتیجہ: تعلقات میں نیا باب

اسحاق ڈار کا دورہ نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کی علامت ہے، بلکہ یہ جنوبی ایشیا میں نئی جغرافیائی سیاست کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کے بہتر ہوتے تعلقات خطے میں امن، ترقی اور اقتصادی استحکام کے لیے خوش آئند ہیں۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

ایرانی برادری: متحدہ عرب امارات کی ترقی کی ایک کڑی

ایران جنگ صرف خطے تک محدود نہیں: یہ ایک عالمی بحران کا آغاز بن گیا ہے۔

آبنائے ہرمزاور نہر سوئز میں ٹول کا قانونی فرق: مصر کیوں جائز، ایران کیوں ناجائز؟