مسلسل شدید برسات کی زد میں ہیں، صوابی میں بادل پھٹنے سے تباہی مچ گئی، مختلف حادثات میں


 



   

(ع مسلسل شدید برسات کی زد میں ہیں، صوابی میں بادل پھٹنے سے تباہی مچ گئی، مختلف حادثات میں 15 افراد جاں بحق ہو گئے، متعدد زخمی ہیں، اموات میں اضافے کا خدشہ ہے۔ پولیس حکام نے بتایا کہ صوابی کے علاقے داروڑی میں بادل پھٹنے کا واقعہ پیش آیا ہے، جس کے نتیجے میں درجنوں گھر ڈوب گئے، شہری جان بچانے کے لیے گھروں کی چھتوں پر چڑھ گئے، 70 سے زائد محصور افراد کو سیلاب سے ریسکیو کرلیا گیا۔ صوابی کی تحصیلوں رزڑ، لاہور اور ٹوپی میں طوفانی بارش کے بعد گھروں میں پانی داخل ہوگیا ، جس کے بعد لوگوں نے جانیں بچانے کے لیے چھتوں پر پناہ لی، سٹیفہ موڑ گدون میں سیلابی ریلے میں کئی لوگ پھنس کر رہ گئے، متاثرہ افراد نے جان بچانے کے لیے گھروں کی چھتوں پر پناہ لے لی ہے اور امداد کے منتظر ہیں۔


طوفانی بارش کے بعد جہانگیرہ روڈ امبار و کنڈہ موڑ پر بھی ہر طرف پانی جمع ہوگیا، تورڈھیر میں نجی سکول کی دیوار منہدم ہوگئی، ایک مقام پر پوری وین چھت تک پانی میں ڈوب گئی۔ ڈپٹی کمشنر صوابی نصراللہ خان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ دالوڑی گاؤں میں کلاؤڈ برسٹ سے کئی گھر ڈوب گئے ہیں، کلاؤڈ برسٹ سے سیلابی ریلے کا بہاؤ بہت تیز ہے، پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے مختلف مقامات پر لینڈسلائیڈنگ بھی ہوئی ہے۔ ڈی سی صوابی کا کہنا ہے کہ انتظامیہ، ریسکیو اور دیگر امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ کی جانب روانہ ہو چکے ہیں، ہری پور اور مردان سے بھی ریسکیو ٹیموں کو بلا لیا گیا ہے۔ نوشہرہ ادھر نوشہرہ کی تحصیل پبی میں مکان کی خستہ حال چھت بارش کا بوجھ نہ سہہ سکی اور میاں بیوی جاں بحق ہو گئے، پشاور میں موسلادھار بارش کے بعد مختلف مقامات پر برساتی نالے ابل پڑے، یونیورسٹی روڈ، کوہاٹ روڈ، رام داس بازار، صدر بازار، پیپل منڈی، محلہ خداداد اور قصہ خوانی میں ہر جانب پانی ہی پانی نظر آرہا ہے۔


سوات سوات کےشہر مینگورہ کے بالائی علاقوں میں مسلسل بارشوں کے بعد ندی نالوں میں طغیانی کی صورت حال ہے، ہری پور میں کھولیاں بالا کے برساتی نالے سے بڑا آبی ریلا گزر گیا، جس سے ہری پور کو ایبٹ آباد سے ملانے والی شاہراہ قراقرم بند ہوگئی۔ شاہراہ ریشم سے ریلا گزرنے سے دونوں ٹریک پر ٹریفک کا نظام معطل ہوگیا، ریلوے روڈ بھی سیلابی ریلے کی نذر ہوگیا، ایبٹ آباد اور اطراف میں مسلسل بارشوں سے سڑکیں جھیل کا منظر پیش کرنے لگی ہیں۔ کاکول روڈ اور شاہرا قراقرم پانی میں ڈوب گئیں، لورا ندی ہرو کا پل بیٹھ جانے سے قریبی علاقوں کا رابطہ منقطع ہوگیا، کئی مقامات پر مضبوط درخت بھی اکھڑگئے۔ راولا کوٹ


راولا کوٹ اور مضافات میں موسلادھار بارش سے ندی نالے بپھر گئے،شاہراہ غازی ملت پر لینڈ سلائیڈنگ سے راولپنڈی روڈ ہیوی ٹریفک کے لیے بند ہو گئی، چہڑھ نالہ میں شدید طغیانی سے ہجیرہ راولاکوٹ روڈ بند ہو گی، متعدد سڑکیں تالاب بن گئیں۔ ضلعی انتظامیہ نے شہریوں کو سفر سے اجتناب کی ہدایت کر دی، بلدیہ اڈہ کے قریب دکانوں اور گھروں میں پانی داخل ہو گیا، ندی نالوں کے قریب کی آبادی کو محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہونے کا انتباہ جاری کر دیا گیا۔ ہری پور ہری پور میں شاہ مقصود کے قریب برساتی نالے کا سیلابی ریلا وین بہا کر لے گیا، وین خالی ہونے کے باعث کوئی بھی جانی نقصان نہیں ہوا، ریسکیو ٹیم وین کو برساتی نالے سے نکالنے میں مصروف ہے۔ خانپور ڈیم خانپورڈیم میں پانی کی سطح مقررہ حد سے تجاوز کر گئی، خانپورڈیم کے سپیل ویزکھول دیے گئے، انتظامیہ اورادارے ہائی الرٹ پر ہیں، ڈیم سے پانی کا اخراج براستہ ندی ہرو دریائے اٹک میں کیا جا رہا ہے۔

 پنجاب کے کئی اضلاع میں جل تھل ایک دوسری جانب پنجاب کے مختلف اضلاع میں کہیں رم جھم پھوار پڑی پڑی تو کہیں موسلادھار بارشوں سے جل تھل ایک ہوگیا، ملتان میں خوب بارش ہوئی تو شاہراہوں پر پانی جمع ہوگیا۔ چکوال کی تحصیل کلرکہار میں تیز بارش سے نشیبی علاقے ڈوب گئے، وہاڑی، ڈیرہ غازی خان اور کوہ سلیمان پر بھی ہر جانب تالاب جیسے مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ مری

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

ایرانی برادری: متحدہ عرب امارات کی ترقی کی ایک کڑی

ایران جنگ صرف خطے تک محدود نہیں: یہ ایک عالمی بحران کا آغاز بن گیا ہے۔

آبنائے ہرمزاور نہر سوئز میں ٹول کا قانونی فرق: مصر کیوں جائز، ایران کیوں ناجائز؟