🛡️ ایڈمرل نوید اشرف کو ترکی کا سب سے بڑا فوجی اعزاز


 

🛡️ ایڈمرل نوید اشرف کو ترکی کا سب سے بڑا فوجی اعزاز

پاکستان بحریہ کے سربراہ، ایڈمرل نوید اشرف کو ترکی کی مسلح افواج کی جانب سے "لیجن آف میرٹ" سے نوازا گیا۔ یہ اعزاز ترکی کی بحری افواج کے سربراہ ایڈمرل ایرجومنت تاتلی اوغلو نے ایک باوقار تقریب میں پیش کیا، جو ترک نیول ہیڈکوارٹرز میں منعقد ہوئی۔

یہ اعلیٰ ترین فوجی اعزاز ان کی پاکستان اور ترکی کے درمیان دفاعی و بحری تعلقات کو مضبوط بنانے میں قابلِ قدر خدمات کے اعتراف میں دیا گیا ہے۔

🤝 پاکستان-ترکی دفاعی تعاون: مشترکہ مشقیں اور ٹیکنالوجی کا تبادلہ

پاکستان بحریہ کے مطابق ایڈمرل نوید اشرف نے دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ مشقوں، فوجی اہلکاروں کے تبادلے، اور علاقائی سلامتی کو فروغ دینے میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ ان کے حالیہ سرکاری دورے کے دوران انہوں نے ترکی کے اعلیٰ دفاعی حکام سے ملاقاتیں کیں، جن میں وزیر دفاع یاسر گلر، چیف آف جنرل اسٹاف میتن گوراک، اور ترک نیوی فلیٹ کے کمانڈر ایڈمرل قادر یلدز شامل تھے۔

ان ملاقاتوں میں دو طرفہ دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے، مشترکہ تربیتی پروگراموں اور دفاعی منصوبوں کو وسعت دینے پر زور دیا گیا۔

🚢 ملگم پراجیکٹ: جدید بحری جہاز سازی میں تعاون

ایڈمرل اشرف نے استنبول نیول شپ یارڈ کا بھی دورہ کیا جہاں انہیں ملگم کلاس کارویٹ پراجیکٹ پر بریفنگ دی گئی۔ یاد رہے کہ 2018 میں پاکستان اور ترکی کے درمیان چار جدید کارویٹ بحری جہازوں کی تعمیر کا معاہدہ ہوا تھا، جن میں سے دو ترکی میں اور دو کراچی شپ یارڈ میں بنائے جا رہے ہیں۔

اس کے علاوہ ایڈمرل اشرف نے ترک نیوی کے مختلف جہازوں جیسے TCG Oruçreis, S/M PIRIREIS اور NDU کا معائنہ کیا اور گولچک نیول بیس پر سب میرین کی تعمیر کا مشاہدہ بھی کیا۔

🇹🇷 اتاترک کے مزار پر حاضری

اپنے دورے کے دوران، ایڈمرل نوید اشرف نے ترکی کے بانی رہنما مصطفی کمال اتاترک کے مزار پر پھول چڑھائے اور ان کی عظیم خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

📈 پاکستان ترکی تعلقات میں مزید بہتری کی امید

جولائی میں ترک وزیر دفاع کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد نے پاکستان کا دورہ کیا تھا، جس میں دونوں ممالک نے مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے اور مشترکہ ورکنگ گروپس کے قیام پر اتفاق کیا تھا۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

ایرانی برادری: متحدہ عرب امارات کی ترقی کی ایک کڑی

ایران جنگ صرف خطے تک محدود نہیں: یہ ایک عالمی بحران کا آغاز بن گیا ہے۔

آبنائے ہرمزاور نہر سوئز میں ٹول کا قانونی فرق: مصر کیوں جائز، ایران کیوں ناجائز؟