افغانستان میں زلزلے نے تباہی مچا دی جس کے نتیجے
افغانستان میں زلزلے نے تباہی مچا دی جس کے نتیجے میں800 افراد جاں بحق جبکہ 2500سے زائد زخمی ہوگئے۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کی شدت 6.2 تھی، جس کا مرکز صوبے ننگرہار کے شہر جلال آباد کے قریب تھا اور اس کی گہرائی 8 کلو میٹر ریکارڈ کی گئی،زلزلہ مقامی وقت کے مطابق رات 11 بجکر 47 منٹ پر آیا اور تقریبا 20 منٹ بعد ہی اسی صوبے میں 4.5 شدت کا ایک اور جھٹکا محسوس کیا گیا جس کی گہرائی 10 کلو میٹر تھی۔
افغانستان کی وزارت اطلاعات کے مطابق اتوار کی شام مشرقی افغانستان میں آنےوالے 6.0 شدت کے زلزلے میں 800سے زائد افراد ہلاک اور2500 زخمی ہو گئے۔امریکی جیولوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) کے مطابق یہ زلزلہ 1917 جی ایم ٹی پر جلال آباد سے 27 کلومیٹر مشرق شمال مشرق میں 8 کلومیٹر کی گہرائی پر ریکارڈ کیا گیا،افغان وزارت اطلاعات کے ایک اہلکار نے اناڈولو (Anadolu)ایجنسی کو بتایا کہ صوبہ کنڑ کے اضلاع میں ہلاکتوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں،سڑکیں زمین کھسکنے کی وجہ سے بند ہو گئی ہیں جس سے متاثرہ علاقوں تک رسائی اورامدادی کارروائیوں میں دشواریوں کا سامنا ہے۔
مقامی افراد کے مطابق یہ ملک میں آنے والے انتہائی طاقتور زلزلوں میں سے ایک تھا،افغانستان کی عبوری انتظامیہ کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے تصدیق کی کہ زلزلے سے جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔
انہوں نے ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر لکھا کہ افسوسناک بات یہ ہے کہ آج رات کے زلزلے سے ہمارے بعض مشرقی صوبوں میں جانی نقصان اور املاک کو نقصان پہنچا ہے،مقامی حکام اور رہائشی مرکزی اور قریبی صوبوں کی امدادی ٹیموں کے ساتھ علاقے کی جانب بچاؤ کی کوششوں میں مصروف ہیں،جانیں بچانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق بڑے زلزلے کے بعد اسی علاقے میں کم از کم دو دیگر زلزلے بھی آئے جن کی شدت 5.2 تھی،اس سے قبل 7 اکتوبر 2023 کو افغانستان میں 6.3 شدت کا زلزلہ آیا تھا جس کے بعد شدید جھٹکے محسوس کیے گئے تھے۔ طالبان حکومت کے تخمینے کے مطابق اس زلزلے میں کم از کم 4,000 افراد ہلاک ہوئے تھے،اقوام متحدہ نے ہلاکتوں کی تعداد تقریباً 1,500 بتائی تھی، یہ افغانستان میں گزشتہ برسوں میں آنے والا سب سے مہلک قدرتی آفت تھا۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں