وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ ماحولیاتی


 وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ ماحولیاتی تباہی کا بوجھ ہم اٹھا رہے ہیں، قصور بڑے ممالک کا ہے۔قرض ، قرض اورمزید قرض، موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کا حل نہیں۔ وزیراعظم نے نیویارک اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری اور برازیل کے صدر کی جانب سے نیویارک میں منعقدہ اسپیشل کلائمیٹ ایونٹ سے خطاب کرتے ہو کہا کہ پاکستان کا عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں حصہ نہ ہونے کے برابر ہے،امید ہےعالمی برادری آئندہ نسلوں کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گی ، ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کیے جائیں گے۔ شہبازشریف نے کہا کہ وہ ایسے وقت میں یہاں مخاطب ہیں جب پاکستان کو مون سون کی شدید بارشوں، کلاؤڈ برسٹ اور تباہ کن سیلاب کی صورتحال درپیش ہے ،اس موسمیاتی آفت کی وجہ سے 50 لاکھ سے زائد افراد اور 4100 دیہات متاثر ہوئے ہیں جبکہ ایک ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہوئے ہیں، 2022ء میں بھی پاکستان کو سیلاب سے 30 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا تھا اور لاکھوں افراد بے گھر ہوئے تھے، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس خود اس صورتحال کا مشاہدہ کر چکے ہیں۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

ایرانی برادری: متحدہ عرب امارات کی ترقی کی ایک کڑی

ایران جنگ صرف خطے تک محدود نہیں: یہ ایک عالمی بحران کا آغاز بن گیا ہے۔

آبنائے ہرمزاور نہر سوئز میں ٹول کا قانونی فرق: مصر کیوں جائز، ایران کیوں ناجائز؟