قطر کے وزیر اعظم نے کہا ہے کہ وہ غزہ میں


 قطر کے وزیر اعظم نے کہا ہے کہ وہ غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو نے رواں ماہ کے اوائل میں دوحہ میں حماس کے رہنماؤں کو نشانہ بنانے والے فضائی حملے پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ سہ فریقی ٹیلی فون پر بات چیت میں شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی کو بتایا کہ وہ 9 ستمبر کے حملے میں قطری سکیورٹی اہلکار کی ہلاکت اور قطر کی خودمختاری کی خلاف ورزی پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔ انھوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ اسرائیل مستقبل میں دوبارہ اس طرح کا حملہ نہیں کرے گا،قطر کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ نتن یاہو نے دوحہ اور قطر کی خودمختاری پر حملے پر معافی مانگی ہے۔


  شیخ محمد نے امریکی صدر کے اقدام کے فریم ورک کے اندر غزہ کی پٹی میں جنگ کے خاتمے کے لیے کوششیں جاری رکھنے کے لیے ملک کی تیاری پر زور دیا ہے۔

قطر نے 2012 سے حماس کے ’پولیٹیکل بیورو‘ کی میزبانی کی ہے اور غزہ میں 23 ماہ کی جنگ کے دوران اس گروپ اور اسرائیل کے درمیان بالواسطہ مذاکرات میں امریکہ اور مصر کے ساتھ مل کر ثالث کی حیثیت سے خدمات انجام دی ہیں۔ یہ خطے میں امریکہ کا ایک اہم اتحادی بھی ہے اور ایک بڑے امریکی فوجی اڈے کا میزبان بھی۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

ایرانی برادری: متحدہ عرب امارات کی ترقی کی ایک کڑی

ایران جنگ صرف خطے تک محدود نہیں: یہ ایک عالمی بحران کا آغاز بن گیا ہے۔

آبنائے ہرمزاور نہر سوئز میں ٹول کا قانونی فرق: مصر کیوں جائز، ایران کیوں ناجائز؟