سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی نے ٹی ایل پی کے مظاہروں اور حکومت کے سخ
سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی نے ٹی ایل پی کے مظاہروں اور حکومت کے سخت رد عمل کے حوالے سے کہا ہے کہ حکومت کی مدعیت میں جو کیسز بنائے گئے وہ حقیقت پر مبنی ہے۔لیکن ظلم نہ کسی سیاسی پارٹی پر ہونا چاہئے نہ عام عوام پر ہونا چاہئے۔جو شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں ان کو دور کرنے کیلئے حکومت کو اقدامات کرنے چاہئے۔
24نیوز کے پروگرام دستک میں گفتگو کرتے ہوئے محمد علی درانی کا کہنا تھا کہ کسی بھی مذہبی جماعت کا سیاست میں ہونا اور حساس صورتحال میں ہونا ایک حقیقت ہے۔اب اگر اس طرح کسی کی جانب سے احتجاج ہوتا ہے تو ایسی صورت میں میڈیا کا بلیک آؤٹ نہیں ہونا چاہئے۔جہاں تک ٹی ایل پی سے مذاکرات کی بات ہے تو حکومت با اختیار ہے وہ کچھ بھی کرسکتی ہے۔ سابق سفیر ڈاکٹر جمیل خان کا افغان پاک تناو ٔپر بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ جو حالات واقعات ہمارے سامنے ہیں اور جو افغان حکومت کا رویہ ہے اس کو دیکھ کر ایسا لگ رہا ہے کہ یہ صورتحال پیچیدہ ہے اور ممکن ہے سیز فائر جاری نہ رہ سکے۔اور اہم بات یہ ہے کہ اس بار افغان حکومت کو را کی بھرپور فنڈنگ حاصل ہے۔ان کاکہناتھا کہ ہم نے دہائیوں سے افغانیوں کی مدد کی لیکن ان کے منفی رویے سے دکھ پہنچتا ہے۔ماضی میں کئی بار افغان حکومت نے معاہدے کی خلاف ورزی کی لیکن پاکستان نے خارجہ پالیسی کے میدان میں افغان حکومت کو سپورٹ کیا۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں