پاکستان اور متحدہ عرب امارات کا کراچی
پاکستان اور متحدہ عرب امارات کا کراچی-پشاور ریلوے اپ گریڈ پر تعاون، سفیر
ابوظہبی: پاکستان کے وزیرِ مملکت برائے خزانہ و ریلوے، بلال اظہر کیانی نے ابو ظہبی میں ہونے والی گلوبل ریل کانفرنس اینڈ ایکزیبیشن 2025 کے دوران متحدہ عرب امارات کے حکام سے ملاقات کی، جہاں دونوں ممالک نے ریلوے کے شعبے میں تعاون بڑھانے اور مہارت کے تبادلے پر اتفاق کیا۔
پاکستان کے متحدہ عرب امارات میں سفیر، فیصل نیاز ترمذی نے بتایا کہ پاکستان اور یو اے ای ریلوے کے شعبے میں تعاون کے خواہاں ہیں اور اس سلسلے میں پاکستان حکومت کا اتحاد ریلوے (Etihad Rail) سے بھی رابطہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یو اے ای پہلے ہی پاکستان کے سب سے بڑے ریلوے منصوبے مین لائن-ون (ML-1) میں شامل ہے۔
ایم ایل-1 منصوبہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ریلوے انفراسٹرکچر اپ گریڈ ہے جس کے تحت 1,872 کلومیٹر طویل کراچی-پشاور ریلوے لائن کی جدید کاری اور ڈبل ٹریکنگ کی جائے گی۔ اس منصوبے میں سگنلنگ سسٹم، پلوں، اسٹیشنوں اور ٹرینوں کی رفتار میں اضافے کے اقدامات شامل ہیں۔
پاکستانی وزیر نے یو اے ای کے صدر، شیخ محمد بن زاید النہیان سے ملاقات بھی کی جس میں دونوں ممالک کے درمیان گورننس، بجلی، ریلوے اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون پر زور دیا گیا۔
سفیر فیصل نیاز ترمذی کے مطابق اس عالمی کانفرنس میں 24 سے زائد وزارتی وفود، 60 سے زائد عالمی سی ای اوز اور 200 بین الاقوامی مقررین شریک ہوئے، جبکہ 20 ہزار سے زیادہ افراد نے شرکت کی۔ اس موقع پر پاکستان نے وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے درمیان اپنی مرکزی حیثیت اجاگر کی۔
وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی نے ابوظہبی سے دبئی کے درمیان نئی تیز رفتار ٹرین کا بھی تجربہ کیا، جو 2026 میں آپریشنل ہوگی۔ اس سفر کو صرف 35 منٹ میں مکمل کیا گیا۔
انہوں نے ایک اجلاس کی صدارت بھی کی جس میں مصر، سعودی عرب، قطر، عمان، بحرین، اردن، افغانستان، ترکمانستان اور ازبکستان کے وزرائے ریلوے شریک تھے۔
پاکستانی سفیر نے کہا کہ اس کانفرنس کے مثبت اثرات نہ صرف پاک-امارات تعلقات پر پڑیں گے بلکہ یہ علاقائی روابط اور تجارتی سہولتوں کے فروغ کا ذریعہ بھی بنے گا۔
پاکستانی مشن کے مطابق وزیرِ مملکت نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان ریلوے کو ایک مؤثر، قابل اعتماد اور ماحول دوست قومی ٹرانسپورٹ بیک بون میں تبدیل کرنے کا وژن رکھتا ہے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں