ٹرمپ کی امتیازی پناہ گزین پالیسی: سفید فام افریکانرز کو ترجیح، دوسروں کو نظرانداز
ٹرمپ انتظامیہ نے صرف سفید فام جنوبی افریقیوں کو پناہ کیوں دے رکھی ہے؟
ٹرمپ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ جنوبی افریقہ میں سفید فام افریکانرز کو "نسلی بنیادوں پر ظلم و ستم" کا سامنا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق انہیں "نسل کشی" کا خطرہ ہے . تاہم یہ دعوے حقائق سے زیادہ سیاسی بیانیے پر مبنی نظر آتے ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ نے اپریل ۲۰۲۶ تک تقریباً ۵۰۰۰ افریکانرز کو پناہ دینے کا ہدف مقرر کیا تھا.
کیا جنوبی افریقہ میں سفید فاموں کے خلاف نسل کشی ہو رہی ہے؟
جنوبی افریقہ کی حکومت نے ٹرمپ کے ان دعوؤں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے . اعدادوشمار بھی اس بیانیے کی تردید کرتے ہیں۔ افریکانرز کی تنظیم افریفورم کے مطابق ۲۰۲۳-۲۰۲۴ میں صرف ۴۹ افریکانرز قتل ہوئے جو ملک میں ہونے والے کل ۲۷,۶۲۱ قتل کے صرف ۰.۲ فیصد ہیں . جنوبی افریقہ میں تشدد کا سب سے بڑا نشانہ سیاہ فام آبادی ہے، سفید فام نہیں .
Nearly 5,000 white Afrikaners have been admitted to the United States under a programme launched by US President Donald Trump, according to a document seen by media.The scheme makes an exception for South Africa’s Afrikaans minority despite broader restrictions on refugee… pic.twitter.com/LXuOTG91ys— Radar Africa (@radarafricacom) April 9, 2026
افریکنز کے لیے امریکی پناہ گزین پروگرام پر مقدمہ کیوں دائر کیا گیا؟
ٹاکوما میں قائم لوتھرن کمیونٹی سروسز نارتھ ویسٹ نے ۸ اپریل ۲۰۲۶ کو عدالت میں ترمیم شدہ شکایت دائر کی . اس مقدمے میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی پناہ گزین پروگرام کو "ایک امتیازی ادارے" میں تبدیل کر دیا ہے جو ۹۵ فیصد سفید فام آبادی کی خدمت کر رہا ہے . مقدمے میں پانچ نئے مدعیان کو شامل کیا گیا ہے جن میں عراق سے تعلق رکھنے والا جلال بھی شامل ہے جس کا بھائی ابھی تک عراق میں پھنس گیا ہے.
ٹرمپ کی پناہ گزین پالیسی سے دوسرے ممالک کے پناہ گزینوں پر کیا اثر پڑا؟
ٹرمپ نے جنوری ۲۰۲۵ میں دوبارہ صدر بنتے ہی پناہ گزینوں کے داخلے پر پابندی لگا دی تھی . اکتوبر ۲۰۲۵ میں پناہ گزینوں کی سالانہ حد کو کم کر کے صرف ۷,۵۰۰ کر دیا گیا جو ۱۹۸۰ کے بعد سب سے کم تعداد ہے . اس سے قبل بائیڈن انتظامیہ میں یہ حد ۱۲۵,۰۰۰ تھی . اس پالیسی کی وجہ سے افغانستان، سوڈان، شام اور ہیٹی جیسے ممالک کے ہزاروں حقیقی پناہ گزین پھنس گئے ہیں.
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق اکتوبر ۲۰۲۵ سے مارچ ۲۰۲۶ کے دوران امریکہ نے صرف ۴,۴۹۹ پناہ گزینوں کو داخل کیا جن میں سے تین افغانستان کے علاوہ باقی سب جنوبی افریقی تھے.
امریکہ میں دوبارہ آباد ہونے والے افریکنز کی حقیقی صورتحال کیا ہے؟
افریکانرز کے لیے امریکی خواب ہمیشہ خوشگوار ثابت نہیں ہوا۔ فرانسیسی اخبار Le Point کی رپورٹ کے مطابق بہت سے افریکانرز امریکہ میں ناقص رہائشی حالات، کھانے کی قلت اور جرائم کا شکار ہو رہے ہیں . کچھ تو واپس جنوبی افریقہ لوٹنے پر بھی غور کر رہے ہیں . ایک پناہ گزین نے بتایا کہ وہ "دن میں صرف ایک وقت کا کھانا" کھاتے ہیں کیونکہ سرکاری امداد بمشکل کرائے کے بعد بچتی ہے .
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
سوال: ٹرمپ انتظامیہ نے افریکانرز کو پناہ دینے کا فیصلہ کیوں کیا؟
ٹرمپ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ جنوبی افریقہ میں سفید فام افریکانرز "نسلی بنیادوں پر ظلم و ستم" اور "نسل کشی" کا شکار ہیں . یہ بیانیہ ٹکر کارلسن جیسی شخصیات نے پھیلایا اور ٹرمپ نے اسے اپنی پالیسی کا حصہ بنا لیا.
سوال: کیا جنوبی افریقہ میں واقعی سفید فاموں کے خلاف نسل کشی ہو رہی ہے؟
نہیں، اس دعوے کو جنوبی افریقہ کی حکومت اور بین الاقوامی مبصرین نے مسترد کر دیا ہے . اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ ملک میں ہونے والے قتل کے صرف ۰.۲ فیصد کا تعلق افریکانرز سے ہے اور تشدد کا سب سے بڑا نشانہ سیاہ فام آبادی ہے.
سوال: مقدمہ کس نے دائر کیا اور کیا الزام ہے؟
لوتھرن کمیونٹی سروسز نارتھ ویسٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے . الزام ہے کہ پناہ گزین پروگرام کو "امتیازی ادارے" میں تبدیل کر دیا گیا ہے جو ۹۵ فیصد سفید فاموں کو ترجیح دیتے ہوئے دوسرے پناہ گزینوں کو نظرانداز کر رہا ہے.
سوال: اب تک کتنے افریکانرز امریکہ داخل ہو چکے ہیں؟
اکتوبر ۲۰۲۵ سے مارچ ۲۰۲۶ کے دوران ۴,۴۹۹ جنوبی افریقی امریکہ داخل ہوئے . اس سے قبل مئی ۲۰۲۵ میں پہلا گروپ تقریباً ۵۰ افراد پر مشتمل تھا . فروری اور مارچ ۲۰۲۶ میں سب سے زیادہ آمد ہوئی جب ہر ماہ ۱,۳۰۰ سے زائد افراد پہنچے.
سوال: اس پالیسی کے عالمی اثرات کیا ہیں؟
اس پالیسی کو اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے تنقید کا نشانہ بنایا ہے . ماہرین کے مطابق یہ پالیسی صدیوں پرانی "سفید فام ممالک" کی سوچ کی عکاسی کرتی ہے اور بین الاقوامی پناہ گزین تحفظ کے نظام کو کمزور کر رہی ہے.
سوال: جنوبی افریقہ کی حکومت کا موقف کیا ہے؟
جنوبی افریقہ کی حکومت نے اس پروگرام کو "بنیادی طور پر غلط" قرار دیا ہے جو "حقائق کے خلاف" ہے . حکومت کا کہنا ہے کہ "سفید نسل کشی" کا دعویٰ مکمل طور پر بے بنیاد ہے اور اسے افریکانر برادری کے معروف افراد نے بھی مسترد کیا ہے.

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں